بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی اسرائیل کے حق میں ریلی
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی اسرائیل کے حق میں ریلی نکالی گئی جس سے مودی حکومت کی مسلم دشمنی بے نقاب ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق انتہا پسند ہندوؤں نے ریلی میں نعرے لگائے کہ جو حماس کا یار ہے، وہ ہمارا غدار ہے، اسرائیل ہم تمہارے ساتھ ہیں، انتہا پسند ہندوؤں کی یہ ریلی درحقیقت بھارت اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے خفیہ گٹھ جوڑ کی عکاس ہے۔
ایسی نفرت انگیز ریلیاں بھارت کو اسرائیل کا "خاموش پارٹنر" نہیں بلکہ ایک فعال حمایتی کے طور پر پیش کرتی ہیں، غزہ کے بعد ایران میں معصوم لوگوں کے قتل پر خاموشی، مودی سرکار کی اسرائیلی ظلم کی پشت پناہی واضح کرتی ہے۔
بھارتی وزیراعظم مودی نے اسرائیلی وزیراعظم سے ٹیلی فون رابطہ قائم کیا، بھارتی وزیراعظم نے ایک بار پھر اسرائیلی جارحیت کی کوئی مذمت نہیں کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انتہا پسند
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔