ٹرمپ اور اردوان کا رابطہ، ایران اسرائیل کشیدگی پر تشویش کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان آج ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری ایران-اسرائیل کشیدگی اور اس کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:ترکیہ، پاکستان اور آذربائیجان 3 ریاستیں مگر ایک قوم ہیں: رجب طیب اردوان
دونوں رہنماؤں نے خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری سفارتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، ترک صدر نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلے کا حل صرف پرامن مذاکرات اور سفارتی کوششوں سے ممکن ہے۔
اردوان نے ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی بحالی کو موجودہ بحران کا واحد مثبت راستہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی خطے میں قیام امن کے لیے ہر ممکن تعاون کو تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے بھی موجودہ حالات پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ایران کو جارحیت سے باز آ کر سفارتکاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران پر اسرائیلی حملے کی حمایت، ٹکر کارلسن امریکی صدر پر برس پڑے
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اس تنازع کو مزید بڑھنے نہیں دینا چاہتا لیکن اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ صورتحال مزید بگڑنے سے خطے میں انسانی بحران جنم لے سکتا ہے جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہوں گے۔ اس موقع پر ٹرمپ اور اردوان نے رابطے میں رہنے اور اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر مشترکہ موقف اپنانے پر بھی اتفاق کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکی صدر ایران ترکیہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ رجب طیب مشرق وسطیٰ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکی صدر ایران ترکیہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔