سی ٹی ڈی سندھ نے انتہائی مطلوب ملزمان کی ایک اور بک تیار کرلی
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ گرے بک کی تیاری کیلئے آئی جی غلام نبی میمن نے سی ٹی ڈی کو احکامات دیئے تھے، تمام اضلاع نے اپنے علاقے کے ہائی پروفائل ملزمان کا ڈیٹا سی ٹی ڈی کو ارسال کیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) سندھ نے انتہائی مطلوب ملزمان کی ایک اور بک تیار کر لی۔ پولیس حکام کے مطابق گرے بک ایڈیشن 2 میں 81 ملزمان کی تفصیلات درج ہیں یہ ملزمان قتل، اقدام قتل، اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں جب کہ ملزمان پولیس مقابلوں اور ڈکیتی کے مقدمات میں بھی مطلوب ہیں۔ حکام نے بتایا کہ گرے بک ایڈیشن 2جلد تمام افسران کو ارسال کر دی جائے گی، گرے بک 2 سے ملزمان کی گرفتاری میں مدد مل سکے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ گرے بک کی تیاری کیلئے آئی جی غلام نبی میمن نے سی ٹی ڈی کو احکامات دیئے تھے، تمام اضلاع نے اپنے علاقے کے ہائی پروفائل ملزمان کا ڈیٹا سی ٹی ڈی کو ارسال کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سی ٹی ڈی کو ملزمان کی
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔