9 مئی کے 11 مقدمات میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
راولپنڈی:
عدالت نے سانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کردی۔
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے سانحہ 9 مئی کے 11 مقدمات کی سماعت کی۔ سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد اور سابق وزیر قانون بشارت راجہ سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے موقع پر تمام 11 کیسوں میں عدالت میں حاضر 45 ملزمان میں چالان کی نقول تقسیم کی گئیں۔ آئندہ سماعت پر ملزمان پر 11 کیسوں میں فرد جرم عائد کی جائے گی۔
عدالت نے مسلسل غیر حاضر رہنے پر تحریک انصاف کے ایم این اے زین قریشی سمیت 19 ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی بھی شروع کردی۔ کیسز کی مزید سماعت 21 جون تک ملتوی کردی گئی۔
سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پوری قوم ایران کے ساتھ ہے، اسرائیل کو بھرپور جواب دینا ایران کا حق ہے۔ اسرائیل نے تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران پر حملہ کیا، ہمیں ایران کا کھل کر ساتھ دینا چاہئے، ہمارا بچہ بچہ ایران کے ساتھ ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ جب بجٹ دینے والا خود کہتا یہ قرضوں کا بجٹ ہے تو اس پر کیا تبصرہ کروں، یہ عوامی بجٹ نہیں ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔