تہران پر اسرائیل کے ایف 35 جنگی طیاروں کے حملے سے پہلے ہی ایک کم درجے کی مگر مہلک ٹیکنالوجی ایران کی سرزمین میں داخل ہوچکی تھی۔
ایران میں موجود موساد ایجنٹس کے ذریعے استعمال ہونے والی اس ٹیکنالوجی کا مقصد اسرائیلی طیاروں کو درپیش کسی خطرے کو ختم کرنا تھا، موساد نے اپنی اس خفیہ کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل اپنی رپورٹ میں ایران کے اندر موساد ایجنٹس کی خفیہ کارروائیوں اور ان کے لیے ہتھیار اسمگل کیے جانے سے متعلق تفصیل سامنے لے آیا۔
امریکی اخبار نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے کئی مہینوں تک سیکڑوں مسلح کواڈ کاپٹر ڈرونز کے پرزے سوٹ کیسوں، ٹرکوں اور کنٹینرز کے ذریعے ایران اسمگل کیے، ان کے ساتھ ایسے ہتھیار بھی لائے گئے جو بغیر پائلٹ والے پلیٹ فارمز (ڈرونز) سے فائر کیے جاسکتے تھے۔
اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل نے مسلح ڈرونز کو کمرشل چینلز کے ذریعے ملک میں داخل کیا اور اکثر کاروباری شراکت داروں کو اس بات کا علم ہی نہ تھا کہ وہ کس مقصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
موساد ایجنٹس نے ملک کے اندر یہ اسلحہ حاصل کیا اور اسے مختلف ٹیموں تک پہنچایا، ان ٹیموں کے لیڈرز کو تیسرے ممالک میں ٹریننگ دی گئی اور یہ آگے اپنی ٹیموں کو تربیت دیتے رہے۔
اخبار کے مطابق اسرائیلی حملے سے قبل موساد ایجنٹوں کی چھوٹی چھوٹی ٹیمیں یہ سامان لے کر ایران کے فضائی دفاعی نظاموں اور میزائل لانچ سائٹس کے آس پاس پوزیشن سنبھال چکی تھیں۔
جیسے ہی اسرائیلی حملہ شروع ہوا، ان ٹیموں نے فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جبکہ کچھ نے ان میزائل لانچرز پر حملے کیے جو اپنے شیلٹرز سے نکل کر فائرنگ پوزیشن سنبھال رہے تھے۔
امریکی اخبار نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موساد نے حالیہ کارروائیوں کی تیاری کئی سال پہلے شروع کر دی تھی، موساد کو معلوم تھا کہ ایران نے حملے کے لیے تیار میزائل کہاں رکھے ہیں اور یہ بھی کہ ان میزائلوں کو لانچ کرنے سے قبل ایک خاص مقام تک پہنچانا ہوتا ہے۔
اخبار کے مطابق موساد کی ٹیمیں ایران میں موجود میزائلوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتی رہیں اور جیسے ہی میزائل لانچ کے لیے نکالے گئے انہیں نشانہ بنایا گیا، موساد کو معلوم تھا کہ ایران کے پاس لانچ سائٹس تک میزائل پہنچانے والے ٹرک محدود تعداد میں ہیں، جو ایک کمزور نکتہ ہے، اسی وجہ سے اسرائیلی ٹیموں نے ایران کے درجنوں میزائل ٹرک تباہ کیے اور جمعے تک یہ ٹیمیں ایران کی سرزمین پر متحرک رہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران کے اندر موساد کی تازہ کارروائیوں میں تہران میں موجود ایرانی قیادت کو بھی نشانہ بنانے کی کوششیں شامل تھیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق موساد کی ایران ڈیسک کی سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کو منظرِ عام پر لانے کا مقصد صرف تباہی نہیں بلکہ خوف اور غیر یقینی پیدا کرنا بھی ہے۔
موساد کی ایران ڈیسک کی سابق سربراہ نے کہا کہ ایران کی اعلیٰ قیادت میں کوئی بھی یقین سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی نظر میں نہیں اور اسے نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ یہ صرف نقصان کا معاملہ نہیں بلکہ اس سے جو گھبراہٹ پیدا ہوتی ہے،وہ بھی بہت اہم ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: امریکی اخبار میں ایران کے مطابق ایران کے موساد کی کے لیے

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام