Juraat:
2026-07-24@03:43:53 GMT

بجٹ میں عوام کو چاروں طرف سے گھیر کر مارا گیا ہے( حافظ نعیم)

اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT

بجٹ میں عوام کو چاروں طرف سے گھیر کر مارا گیا ہے( حافظ نعیم)

کرپشن اور سود کے خاتمہ کے بغیر عام آدمی کی حالت اورمعیشت میں بہتری نہیں آئیگی، امیر جماعت اسلامی
ایران کی حمایت میں اقدامات اٹھائے جائیں، اسرائیل بدمست ہاتھی بن چکا ہے،نومنتخب مجلس شوریٰ سے خطاب

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ ایران کی حمایت میں اقدامات اٹھائے جائیں، اسرائیل بدمست ہاتھی بن چکا ہے جس سے پورے خطے کی سلامتی کو خطرہ ہے۔ جماعت اسلامی کی نومنتخب مجلس شوریٰ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت نے ایران پر اسرائیلی حملہ کی پرزور مذمت کی اور کہا کہ جماعت اسلامی اور پوری پاکستانی قوم ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ ہے۔مجلس شوریٰ کا تین روزہ اجلاس منصورہ میں جاری ہے۔ اجلاس میں ملک بھر سے منتخب اراکین شرکت کررہے ہیں۔ قبل ازیں نوے سے زائد مردوخواتین اراکین شوریٰ نے حلف اٹھایا اور ایران کے حق میں اور اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف متفقہ قرارداد پاس کی۔امیر جماعت مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ سید مودودیؒ نے 65ء کی جنگ کے دوران ایوب خان سے اختلافات بھلا کر حکومت کا ساتھ دیا تھا۔جماعت اسلامی نے حالیہ پاک بھارت جنگ میں بانی جماعت کی سنت تازہ کی اور موجودہ حکومت سے اختلافات ایک جانب رکھتے ہوئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا ایران پر حملہ قابل افسوس و مذمت ہے، جماعت اس صورتحال میں بھی کردار ادا کرے گی، حکومت کو ایران کی حمایت میں اقدامات کرنے ہوں گے۔ ایران،حماس کے لیے بھی ایک بہت بڑی قوت ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں ایران کے حق میں پاس ہونے والی قرارداد کی ستائش کی اور کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کی اسرائیل کو ریاست تسلیم نہ کرنے کی بات بھی احسن اقدام ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسرائیل فلسطین میں تاریخ انسانی کے بدترین مظالم ڈھا رہا ہے، اسرائیلی جارحیت اور دہشت گردی پر عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بالخصوص اسلامی ممالک کی حکومتوں اور او آئی سی کی خاموشی افسوس ناک ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اہل غزہ کو صہیونی دہشت گردی سے بچانے میں قائدانہ کردار ادا کرے۔ اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکہ کو واضح پیغام دیا جائے کہ مسلمانوں اور انسانیت کے خلاف دہشت گردی بند کی جائے۔ فلسطینیوں کو خوراک، ادویات اور امداد پہنچانے کا فوری بندوبست کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی ایران کی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا