پشاور کے نوجوان گلوکار جنید کامران کی کامیابی کی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
(ابو بکر صدیق)
پشاور سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان گلوکار جنید کامران صدیقی نے اپنی آواز، محنت اور لگن سے وہ مقام حاصل کر لیا جس کا خواب کئی نوجوان دیکھتے ہیں۔ فنِ موسیقی میں جنید کا سفر محض ایک شوق نہیں بلکہ ایک مشن کی صورت میں سامنے آیا ہے، ایسا مشن جو آج نہ صرف کامیابی سے ہمکنار ہو چکا ہے بلکہ دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بھی بن رہا ہے۔
جنید کامران صدیقی نے قلیل مدت میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کو منوایا ہے، حالیہ دنوں میں انہوں نے کئی بڑی فلموں میں اپنی آواز کا جادو جگا کر شائقین موسیقی اور فلمی صنعت کو متاثر کیا ہے۔ ان کی گائیکی میں خلوص، جدت اور جذبہ اتنا گہرا ہے کہ ہر گیت میں سامع ایک الگ کیفیت سے گزرتا ہے۔
تاہم جنید کی شخصیت صرف موسیقی تک محدود نہیں۔ انہوں نے تعلیم کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل رکھا اور اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ خود کو علمی اعتبار سے بھی مستحکم کیا۔ یہی نہیں، انہوں نے کاروباری میدان میں بھی قدم رکھا اور اپنی کاروباری صلاحیتوں سے یہ ثابت کر دکھایا کہ اگر عزم ہو تو ایک ہی وقت میں مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کرنا ممکن ہے۔
پشاور کا یہ نوجوان فنکار آج نہ صرف ایک کامیاب گلوکار ہے بلکہ ایک رول ماڈل بھی ہے، ایسا رول ماڈل جو نوجوانوں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ جنون، محنت، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی کے ساتھ کوئی بھی خواب حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔
جنید کامران صدیقی کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ پشاور اور ملک کے نوجوانوں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا مثال ہے کہ فن اور تعلیم کا توازن زندگی میں کیسی بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پشاور تعلیم جنید کامران صدیقی رول ماڈل فنکارانہ صلاحیت نوجوان گلوکار وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور تعلیم جنید کامران صدیقی رول ماڈل فنکارانہ صلاحیت نوجوان گلوکار وی نیوز جنید کامران صدیقی جنید کا کے لیے
پڑھیں:
رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔
ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔
پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔