Daily Mumtaz:
2026-06-03@06:20:17 GMT

کاجول کے بچوں کو ان کے کونسے کردار نہیں پسند؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

کاجول کے بچوں کو ان کے کونسے کردار نہیں پسند؟

اداکارہ کاجول کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کو ان کی رونے دھونے والی فلمیں پسند نہیں ہیں۔

بالی وڈ میں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے صفِ اول کی اداکارہ رہنے والی کاجول اب پہلی بار ایک نئے تجربے سے گزر رہی ہیں۔

ان کی آنے والی فلم’ ماں‘ ان کے کیریئر کی پہلی ہارر فلم ہے، کاجول نے اپنے کرئیر میں ہارر کے علاوہ ہر میدان میں طبع آزمائی کی ہے لیکن وہ اب پہلی بار کسی خوف پر مبنی فلم میں کام کرنے جارہی ہیں۔

کاجول گزشتہ 10 برس میں صرف آٹھ فلموں میں نظر آئی ہیں، اس لیے کسی بھی پروجیکٹ کے لیے ہاں کہنا ان کے لیے ایک اہم فیصلہ ہوتا ہے۔

ایک انٹرویو میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب ’ماں ‘ کا اسکرپٹ ان کے پاس آیا تو وہ مجھے فوراً پسند آگیا کیونکہ انہیں خود بھی ہارر کہانیاں بہت پسند ہیں ۔

فلم کا خوفناک ٹریلر ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی پھیلانے کے لیے کافی ہے، ٹریلر میں فلم کے انتہائی خوفناک ہونے کی کہانی جھلک جاتی ہے۔

فلم ایک ماں کے گرد گھومتی ہے جس میں وہ اپنے بچوں کو شیطانی قوتوں سے بچاتی ہے۔

کاجول کا کہنا ہے کہ ان کے بچے نیسا اور یوگ فلم کا ٹریلر دیکھ چکے ہیں اور انہیں امید ہے کہ بچے فلم بھی دیکھیں گے۔

تاہم کاجول نے کہا کہ نیسا کو ہارر فلمیں پسند نہیں ہیں لیکن امید ہے وہ یہ فلم ضرور دیکھے گی۔

جب کاجول سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے بچے ان کے کام پر رائے دیتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ میرے بچے بہت صاف گو ہیں، وہ مجھے روتا ہوا نہیں دیکھ سکتے، وہ چاہتے ہیں کہ میں ویسی فلمیں کروں جو ان کے پاپا کرتے ہیں جیسے کہ گول مال وغیرہ۔

وہ چاہتے ہیں کہ میں ایسی فلمیں کروں جن میں صرف ہنسی ہو، کوئی نہ روئے، کوئی گلیسرین استعمال نہ ہو، اور میرے ساتھ کچھ بھی نہ ہو، میں سوچتی ہوں کہ پھر یہ کیسی فلم ہوگی  جس میں میرے ساتھ کچھ نہ ہو اور مجھے کچھ کرنا ہی نہ پڑے تو پھر میں اس فلم میں  کیا کروں گی ؟

ہارر فلم کرنے کی وجہ ؟

کاجول نے کہا کہ وہ 16 برس کی عمر سے ہی فلموں میں کام کررہی ہیں، انہوں نے پوری دنیا گھومی ہے اور انہیں رات 4 بجے بھی سڑکوں پر گھومنے سے ڈر نہیں لگتا ، اس لیے وہ آرام سے کسی بھی ہارر مووی میں کام کرسکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 90 کی دہائی میں ہارر فلموں کے اچھے اسکرپٹ نہیں ہوتے تھے اس وجہ سے اس دور میں اچھی ہارر فلمیں نہیں بن سکیں، اب چونکہ ہارر فلموں کو پذیرائی مل رہی ہے تو وہ اس یونرا میں کام کررہی ہیں۔

فلم کا ٹائٹل ’ماں‘ کیوں ؟

کاجول کا کہنا تھا کہ اس فلم میں لفظ ماں سے جو کچھ بھی نکل سکتا ہے وہ ملے گا ، چاہے وہ کسی کی ماں ہو، چاہے کالی ماں دیوی ہو یا پھر وہ ماں جو اپنے بچوں کو کسی آفت سے بچاتی ہے، یہی اس فلم کی تھیم ہے اور اسی وجہ سے لفظ ماں جیسا طاقتور لفظ اس فلم کا ٹائٹل رکھا گیا ہے۔

کم فلمیں کرنے کی وجہ:

کاجول کا کہنا تھا کہ وہ صرف ٹائم پاس کرنے کے لیے فلمیں سائن نہیں کرتیں، صرف اس صورت میں فلم سائن کرتی ہیں جب اس کا اسکرپٹ انہیں پسند آئے، بہت سے اداکار ایسے ہیں جو فارغ ہوتے ہیں تو کسی فلم کے لیے ہاں کردیتے ہیں جو ان کے کرئیر پر برا اثر چھوڑتا ہے۔

پاپا رازیوں سے تنگ کیوں ؟

ان کا کہنا تھا کہ پاپارازیوں کی کسی بھی شخص کی پرسنل اسپیس کا احترام کرنا چاہیے، جب ہم کسی شخص کے آخری رسومات میں بھی شرکت کرتے ہیں تو پاپارازی ہمیں مسکراتے ہوئے پوز دینے کا کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی پاپارازی مسلسل ہمارا پیچھا کرتے رہتے ہیں کہ ہم کہاں جارہے ہیں اور کیا کررہے ہیں، اس سے ہماری پرسنل لائف ڈسٹرب ہوتی ہے اور ہم پولیس کو بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں ان پاپارازیوں سے بچائیں  

فلم’ ماں‘ حالیہ برسوں میں کاجول کی دوسری فلم ہے جس میں ماں ہونے کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اس سے قبل انہوں نے’ ہیلی کاپٹر ایلا‘ میں ایک پروٹیکٹو ماں کا کردار ادا کیا تھا۔
فلم ’ماں‘، جسے وِشال فریا نے ہدایت دی ہے، اس میں کاجول کے ساتھ رونیت رائے اور اندرنیل سینگپتا بھی شامل ہیں، یہ فلم 27 جون کو سینما گھروں کی زینت بنے گی۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ کاجول کا کہنا ہارر فلم انہوں نے بچوں کو میں کام کے لیے ہیں کہ فلم کا اس فلم

پڑھیں:

تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائل

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔

صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔

متعلقہ مضامین

  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • مردان قتل کیس: ملزمان مغوی بچوں کو چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار، تحقیقات جاری
  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟