ملک کی آئی ٹی انڈسٹری میں غیر معمولی ترقی اور تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں صرف 9 ماہ کے قلیل عرصے میں 2.42 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس ریکارڈ ہوا ہے۔

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں رواں مالی سال کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے نہ صرف قومی معیشت کو سہارا ملا ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں پاکستان کی رسائی بھی بہتر ہوئی ہے۔

اس پیشرفت کا سہرا اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام کی مؤثر حکمت عملی کے سر جاتا ہے، جن کی مشترکہ کاوشوں نے آئی ٹی سیکٹر کو ایک نئی جہت دی ہے۔

اقتصادی جائزے کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2024 سے مارچ 2025 کے درمیان پاکستان نے آئی ٹی اور اس سے متعلقہ خدمات (آئی ٹی ای ایس) کی برآمدات سے 2.

42 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس حاصل کیا جب کہ صرف مارچ 2025 میں آئی سی ٹی برآمدات میں 12.1 فیصد اضافہ ہوا، جس کی مالیت 342 ملین ڈالر رہی۔

اس اضافے میں فری لانسرز نے بھی کلیدی کردار ادا کیا، جن کی ترسیلات 400 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔

پاکستانی آئی ٹی انڈسٹری کی صلاحیت کو مزید وسعت دینے کے لیے ملک بھر میں 6,400 افراد کو جدید ٹیکنالوجیز میں تربیت دی گئی جب کہ 2,700 انٹرنز کی مختلف آئی ٹی کمپنیوں میں تقرری کی گئی جن میں سے 70 فیصد کو مستقل ملازمتیں دی گئیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف انسانی وسائل کی ترقی ہوئی بلکہ آئی ٹی کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت میں بھی اضافہ ہوا۔

وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام کے مطابق 15 نمایاں پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ آئی ایس او سرٹیفکیٹس حاصل کیے ہیں، جس سے پاکستان کی عالمی سطح پر ساکھ مزید مستحکم ہوئی ہے۔ ساتھ ہی ملک کے بڑے شہروں میں 50 سے زائد سافٹ ویئر پارکس کے قیام کا منصوبہ بھی جاری ہے جو آئی ٹی ایکو سسٹم کو مزید فروغ دے گا۔

ایس آئی ایف سی کی رہنمائی اور پالیسیوں کی بدولت پاکستانی آئی ٹی انڈسٹری نہ صرف مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مضبوط اور مستند پہچان حاصل کر رہی ہے، جو آنے والے وقت میں ملکی معیشت کے لیے ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آئی ٹی انڈسٹری

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی