اسرائیل ایران کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے اثرات عالمی منڈی پر پڑنے لگے، جہاں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 76.37 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جب کہ امریکی خام تیل کی قیمت بھی تقریباً دو ڈالر بڑھ کر 75.
یہ اضافہ جمعہ کو تیل کی قیمت میں سات فیصد اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور ایران کی ممکنہ جنگ کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب، پاکستان میں بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 95 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ 15 دنوں کے لیے ہوگا۔
یاد رہے کہ تیل کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں بھی متاثر ہوتی ہیں، جس کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑتا ہے۔
Post Views: 3
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تیل کی قیمت
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔