سرگودھا: مسلح افراد کی کار پر فائرنگ، 3 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
فائل فوٹو
سرگودھا میں مسلح افراد کی کار پر فائرنگ سے خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق جبکہ 5 شدید زخمی ہوگئے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ نواحی علاقے ٹھٹھی میاں رانجھا کے قریب پیش آیا، جہاں تمام افراد شادی کی تقریب سے فارغ ہو کر گھر واپس جارہے تھے کہ مسلح افراد نے کار پر فائرنگ کر دی۔
فائرنگ سے زخمیوں میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے جبکہ زخمیوں کو ٹی ایچ کیو شاہپور منتقل کردیا گیا۔
کراچیاسٹیل ٹاؤن کے علاقے میں مسلح ملزمان کی.
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 6 سالہ عاشر، 25 سالہ صائمہ اور 42 سالہ محمد اقبال شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کردی جبکہ واقعے کی تفتیش کی جارہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔