ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل سے متعلق کیس: ملزم کا مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل سے متعلق کیس: ملزم کا مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 16 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل سے متعلق کیس میں عدالت نے ملزم کا مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے گرفتار ملزم عمر حیات کو عدالت میں پیش کردیا۔
علاقہ مجسٹریٹ محمد حفیظ کی عدالت میں ملزم کو پیش کیا گیا، عدالت نے شناخت پریڈ کیلئے ملزم کو جیل بیجھنے کا حکم دیا تھا۔
پولیس کیجانب سے شناخت پریڈ کا عمل مکمل ہونے پر ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا، پراسیکوشن نے کہا کہ ملزم کی شناخت ہوگئی ہے۔
پولیس کیجانب سے ملزم کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی، پراسیکوشن نے مؤقف اپنایا کہ ملزم کو 2 لوگوں نے شناخت کیا ملزم کی والدہ اور پھوپھو نے، ملزم سے زیر استعمال موبائل فون اور گاڑی کی برآمدگی کیلئے ریمانڈ چاہیے۔
ملزم نے کہا کہ میں نے موبائل پولیس کو دے دیا ہے، میری درخواست ہے میرا میڈیکل کروایا جائے۔
عدالت نے ملزم کے میڈیکل کی ہدایت کردی، ملزم نے کہا کہ میرا فیملی سے رابطہ نہیں، ان کو پتا ہے کہ وکیل کرنا ہے یا نہیں۔
عدالت نے ملزم کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچینی صدر کی سنائی گئی حقیقی کہانی پر فلم “دی میوزیشن “ چینی صدر کی سنائی گئی حقیقی کہانی پر فلم “دی میوزیشن “ ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کا چالان بنانے اور پولیس کی مدد کیلئے 2 رکنی پراسیکیوشن ٹیم مقرر ’صحافی نہ ہوتے تو واش روم صاف کرتے‘، فضا علی کے تبصرے پر سہیل وڑائچ بھی بول اٹھے جاوید شیخ نے اداکارہ میرا سے متعلق ماضی کا دلچسپ قصہ سنا دیا ارطغرل غازی کے مرکزی کردار نے دورہ پاکستان میں پیش آنیوالے دلچسپ واقعات بتا دیے قتل کے موقع پر گھر میں موجود ثناء یوسف کی پھوپھو نے کیا دیکھا؟ مقتولہ کے والد کا انکشافCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل سے متعلق کیس عدالت نے ملزم کو ملزم کا
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔