موٹر سائیکل روکنے و بند کرنے پر تنازع؛ ٹریفک پولیس راولپنڈی نے وکلا پر مقدمہ درج کروا دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
راولپنڈی:
سٹی ٹریفک پولیس راولپنڈی نے وکلا کے خلاف پیکا ایکٹ سمیت دھمکیاں دینے وغیرہ کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کروا دیا۔
مقدمہ سٹی ٹریفک پولیس کے انسپکٹر واجد کی مدعیت میں تھانہ کینٹ میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق عملے کی ساتھ ڈیوٹی پر موجود تھا کہ چودھری رضوان الٰہی ایڈووکیٹ کی فیس بک پر ویڈیو وائرل ہوئی۔
واقعہ ہفتے کو حیدر روڈ پر پیش آیا جہاں موٹر سائیکل سوار کو ہیلمٹ اور فرنٹ نمبر پلیٹ نہ ہونے پر روکا گیا۔ موٹر سائیکل سوار ملک تجمل کو چالان ٹکٹ جاری کیا اور کاغذات نہ ہونے پر موٹر سائیکل کو پابند کیا۔
موٹر سائیکل سوار نے تعارف کروایا کہ وکیل ہوں اور فون کرکے 15 وکلا کو بلا لیا جبکہ سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں، موقع پر موجود دیگر افسران نے معاملہ رفع دفع کرایا لیکن بعدازاں سوشل میڈیا پر چودھری رضوان الٰہی ایڈووکیٹ نے اپنی فیس بک کر پولیس کو بدنام کرنے کے لیے ویڈیو وائرل کر دی۔
مذکورہ نے محکمہ پولیس کے عزت و وقار کو مجروع کرنے کی نیت سے عوام کو اشتعال دلانے کی خاطر ویڈیو وائرل کی۔
مقدمے کے متن کے مطابق باوردی پولیس عملے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیکر کار سرکار میں مزاحمت کرکے جرائم کا ارتکاب کیا گیا جس پر مذکورہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب، وکلا نے مقدمے کو جعلی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان موٹر سائیکل
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔