وفاقی بجٹ پر حکومتی اراکین بھی ناخوش، سینیٹر عرفان صدیقی کا تعلیمی فنڈز میں اضافے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
وفاقی بجٹ پر حکومتی اراکین بھی ناخوش، سینیٹر عرفان صدیقی کا تعلیمی فنڈز میں اضافے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 16 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:نئے وفاقی بجٹ 26-2025 پر نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی اراکین پارلیمنٹ بھی ناخوش دکھائی دے رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے وفاقی بجٹ میں تعلیم خصوصاً اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص فنڈز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو تحریری تجاویز جمع کروائیں، جن میں کہا گیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بجٹ میں گزشتہ پانچ سالوں سے کوئی اضافہ نہیں ہوا، جو انتہائی تشویشناک ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی بجٹ بھی 39 ارب روپے سے بڑھا کر 80 ارب روپے کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم مستقبل کی سرمایہ کاری ہے اور موجودہ بجٹ میں تعلیم کو نظرانداز کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے بجٹ کی کمی کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرستائیس ویں شنگھائی بین الاقوامی فلم میلے کا آغاز ہو گیا پاکستان کی معیشت سے بڑی خبر،فوجی فرٹیلائزر نے پی آئی اے خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کردیا، دستاویز سب نیوز پر وفاقی بجٹ: پی ٹی آئی کی پیپلز پارٹی کو ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کی پیشکش مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس؛ سپریم کورٹ میں اہم سوالات زیربحث دنیا کو اسرائیل کی جوہری صلاحیت کے بارے میں خوفزدہ ہونا چاہیے: خواجہ آصف ایرانی سپریم لیڈر زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل، اسرائیلی حملوں کے بعد تہران میں ہنگامی صورتحال ایران نے موساد کے ایک ایجنٹ کو پھانسی دیدیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی وفاقی بجٹ
پڑھیں:
امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقی اور تعلیمی اداروں پر پابندی عائد کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے اداروں کی ایک فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ حساس ٹیکنالوجی کی غیر مجاز منتقلی کے خطرات سے متعلق تشویش کا باعث ہیں۔
پینٹاگون کے مطابق فہرست میں شامل ان اداروں کو امریکی قوانین کے تحت دفاعی تحقیق اور حساس ٹیکنالوجی کے تبادلوں کے تناظر میں خصوصی پابندیوں اور نگرانی کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد امریکی دفاعی ٹیکنالوجی اور حساس تحقیق کے غیر مجاز یا غیر مطلوبہ منتقلی کو روکنا بتایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس کا عملی دائرۂ کار امریکی قوانین کے تحت دفاعی تعاون، فنڈنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر مخصوص پابندیوں سے متعلق ہے۔