Islam Times:
2026-06-03@06:16:39 GMT

سٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

سٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس میں جس میں شرح سود 11 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پالیسی کمیٹی کے مطابق مئی 2025ء میں مہنگائی کی سطح 3.5 فیصد بڑھی جبکہ بنیادی افراط زر معمولی کمی ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس میں جس میں شرح سود 11 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پالیسی کمیٹی کے مطابق مئی 2025ء میں مہنگائی کی سطح 3.

5 فیصد بڑھی جبکہ بنیادی افراط زر معمولی کمی ہوئی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سٹیٹ بینک نے گزشتہ ماہ شرح سود میں 1 فیصد کمی کر کے شرح سود 12 فیصد سے 11 فیصد کر دی تھی، جو مارچ 2022ء کے بعد سب سے کم شرح ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: برقرار رکھنے کا فیصلہ شرح سود 11 فیصد پالیسی کمیٹی سٹیٹ بینک کے مطابق

پڑھیں:

بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔

تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔

مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا

حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔

ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور