اسرائیلی حملوں میں ساتھ دینے والے نتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں: ایران نے خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
اقوام متحدہ: ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملوں میں تل ابیب سے تعاون کرنے والے ممالک بحران کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں کیونکہ وہ بھی قانونی طور پر ان حملوں کے ذمہ دار ہوں گے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایراوانی نے سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں آگاہ کیا ہے کہ ایران حق دفاع میں متناسب دفاعی آپریشنز انجام دے رہا ہے جن کا مقصد فوجی اہداف اور اس سے منسلک انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانا ہے۔
بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امیر سعید ایراوانی نے خاص طور پر امریکا کا نام لیا اور کہا کہ امریکی ہتھیاروں، خفیہ معلومات اور سیاسی حمایت کے بغیر اسرائیل کسی صورت ایران پر حملہ نہیں کرسکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس غیر قانونی حملےکی ذمہ داری امریکا پر بھی عائد ہوتی ہے۔
ایرانی مندوب نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ایران نے اسرائیل پر حملہ نہیں کیا، ایران نے کسی جنگ میں پہل نہیں کی، ایران کو وجود کیلئے خطرہ جیسا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی حملوں میں ساتھ دینے والےنتائج کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینون نے دعویٰ کیا کہ ایران کا ہدف شہری جبکہ اسرائیل کا ہدف حکومتی عناصر ہیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔