دنیا اب امریکا کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے،چینی صدر
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
بیجنگ: چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہاہےکہ کہ دنیا اب امریکا کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے، امریکا کا بھی وہی انجام ہو جو ماضی کی زوال پذیر سلطنتوں کا ہوا، کہا اگر امریکا یہ سمجھتا ہے کہ وہ عالمی سیاست و معیشت میں ہمیشہ کیلئے ناگزیر ہے، تو وہ ماضی کی ان سلطنتوں سے سبق لے۔
شی جن پھنگ نے عالمی طاقتوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دنیا کا احترام کھو دیا تو وہی انجام دیکھے گا جو ماضی کی زوال پذیر سلطنتوں کا ہوا۔
چینی صدر نے کہا تاریخ گواہ ہے کہ ہر طاقتور سلطنت نے خود کو ناقابلِ شکست سمجھا مگر ہر ایک کا سورج آخرکار غروب ہوا، آج سے 100 سال پہلے برطانوی سلطنت عالمی تجارت پر چھائی ہوئی تھی، لوگ سمجھتے تھے کہ اس سلطنت کا سورج کبھی غروب نہیں ہوگا، لیکن وہ وقت بھی آیا جب برطانیہ عالمی منظرنامے سے پیچھے ہٹ گیا۔
شی جن پھنگ نے کہاکہ اگر امریکا یہ سمجھتا ہے کہ وہ عالمی سیاست و معیشت میں ہمیشہ کیلئے ناگزیر ہے، تو وہ ماضی کی ان سلطنتوں سے سبق لے، وقت بدلتا ہے اور قومیں بدلتی ہیں، جو قوم دنیا کا احترام نہیں کرتی، وہ خود اپنے زوال کی راہ ہموار کرتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ماضی کی
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔