حماس اور ایران نے اسرائیل کی بنیادیں ہلادیں،لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)نائب امیر جماعت اسلامی، مجلس قائمہ سیاسی قومی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حماس اور ایران نے اسرائیل کی بنیادیں ہلادی ہیں، ظلم، تکبر، غرور کا محل لرزہ براندام ہے،ایرانی جوابی میزائل حملوں نے صرف 3 دن میں ہی اسرائیل کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے، اسرائیل ثالثی کے لیے مغربی ممالک کی مدد مانگنے لگا، ٹرمپ نے بھی پاک بھارت طرز پر ایران اسرائیل جنگ بندی معاہدے کا عندیہ دے دیا،عالم اسلام کے عسکری، اقتصادی اور اسٹریٹیجک اتحاد کے ذریعے امریکی سرپرستی سے مشرقِ وسطیٰ کو بارود اور آگ کی بھٹی میں جھونکے والے اسرائیل کا وجود مٹایا جاسکتا ہے،گاؤں کا چودھری لڑائی جھگڑے شروع کراتا ہے لیکن جب اُس کی اپنی پگڑی گِرنے لگتی ہے تو وہ صلح صفائی پر اُتر آتا ہے، یہی حال اِس وقت دُنیا بھر میں چودھری بن کر پھرنے والے امریکا کا ہے،امریکا نے دُنیا بھر میں اپنی بالادستی کو قائم رکھنے اور دیگر ممالک کو اپنا زیرِنگیں رکھنے کے لیے جنگوں، اسلحے کی خرید و فروخت کے ذریعے دہشت گردی، فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائی، اب یہ آگ خود اُس کے وجود کے لیے خطرناک ہوگئی ہے،دُنیا میں جنگوں کا خاتمہ ہی امریکا کو تباہی سے بچاسکتا ہے،جنگ بندی کی جو بھی اور جہاں بھی کوشش ہو وہ عالمی امن انسانوں کے لیے اچھا ہے،لیکن پائیدار امن، عزت و وقار اور ظالم و ظلم کا مستقل بنیادوں پر راستہ روکنے کے لیے عالم اسلام کو عسکری، اقتصادی اور علم و ٹیکنالوجی کے میدانوں میں ترقی کے لیے باہم اتحاد کرنا ہوگا۔لیاقت بلوچ نے منصورہ میں سندھ، بلوچستان کے رہنماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات اور سندھ میں بدامنی، ڈاکو راج عوام کے لیے وبالِ جان بن گئے ہیں،ریاستی ادارے اور آلہ کار حکومتیں عوام کو فتح کرکے ریاستی و حکومتی طاقت سے انہیں کمزور و بے بس نہ بنائیں،عوام اپنا جائز آئینی حق مانگتے ہیں، حکمران عوام کو ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے راستے پر نہ ڈالیں،بھارت کی طرف سے دوبارہ جارحیت کے امکانات بڑھ رہے ہیں، تاہم اِس بار کا مس ایڈونچر مودی کو کافی سے زیادہ مہنگا پڑے گا،اسرائیلی دہشت گردی اور جارحیت غزہ، لبنان، شام، یمن، عراق سے ہوتے ہوئے ایران تک پھیلادی گئی ہے، پاکستان کے لیے خطرات کے امکانات بڑھ گئے ہیں،اس صورتحال میں اندرونی استحکام، عامۃ الناس اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے،ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے عوام کا جمہوریت، انتخابات اور پارلیمانی نظام پر اعتماد بحال کرنا، شہری حقوق کے تحفظ کے لیے بااختیار بلدیاتی نظام اور انتخابات کا حق بحال کرنا، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور صوبوں کا آئینی حق ملکیت تسلیم کرنا اور انسانوں پر مسلط غیر آئینی، غیر قانونی، انسانی حقوق کی پامالی پر مبنی نظام ختم کرکے لاپتا افراد کی بازیابی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی عمل میں لانا ضروری ہے۔لیاقت بلوچ نے بلوچستان اور سندھ کے رہنماؤں کو یقین دِلایا کہ جماعت اسلامی ملک میں آئین، قانون اور آزاد عدلیہ کی فرمانروائی اور صوبوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی قومی جدوجہد تیز کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔