روس کی اسرائیل اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماسکو: روس نے اسرائیل اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش کردی ہے۔
میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس ایران اور اسرائیل کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
پیسکوف نے نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر پوتن نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو روس ثالثی کی خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم کم از کم اسرائیل کی طرف سے کسی ثالثی کی خدمات کا سہارا لینے یا تصفیہ کی طرف پرامن راستہ اختیار کرنے میں ہچکچاہٹ دیکھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران روس کے سب سے بڑے اتحادیوں میں سے ایک ہے، لیکن وہ اسرائیل کو الگ نہ کرنے کا بھی خواہش مند رہا ہے، جس کے ساتھ اس نے برسوں سے اچھے تعلقات برقرار رکھے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ثالثی کی
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔