میکسیکو میں دو دن میں دوسری خاتون میئر قتل
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
میکسیکو میں منظم جرائم کی لہر شدت اختیار کر گئی، مغربی ریاست میچواکان میں ایک اور خاتون میئر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔
مقتولہ مارتھا لورا مینڈوزا شہر تیپالکاٹے پیک کی میئر تھیں اور صدر کلاڈیا شین باؤم کی بائیں بازو کی حکمران جماعت مورینا پارٹی کی رکن تھیں۔
میچواکان کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق کی کہ مینڈوزا کو ان کے شوہر کے ہمراہ قتل کیا گیا، تاہم حملے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، صرف اتنا بتایا گیا کہ واقعہ فیما سائیڈ (عورت پر جان لیوا حملہ) کے زمرے میں آتا ہے۔
مخالف جماعت پی آر آئی (PRI) کے رہنما اور تیپالکاٹےپیک کے سابق میئر گییئرمو ویلنشیا نے دعویٰ کیا کہ انہیں موصولہ اطلاعات کے مطابق مینڈوزا اور ان کے شوہر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے گھر سے باہر نکل رہے تھے۔
ریاست میچواکان ملک کی سب سے بڑی ایووکاڈو پیدا کرنے والی ریاست ہے، اب جرائم اور گینگ وار کا شکار ہے، یہاں کی بندرگاہ لازارو کارڈیناس اور متعدد سیاحتی مقامات اکثر جرائم پیشہ گروہوں کے نشانے پر رہتے ہیں۔
مینڈوزا کے قتل سے صرف دو دن پہلے ریاست اوآخاکا کے شہر سان ماٹیو پیناس کی میئر لیلیا گارشیا کو ان کے دفتر میں گولی مار کر قتل کر دیا تھا، جس میں ان کے ایک ساتھی کی بھی جان گئی تھی۔
میکسیکو میں حالیہ برسوں میں درجنوں مقامی عہدیدار منظم جرائم پیشہ گروہوں کا نشانہ بن چکے ہیں، خاص طور پر وہ علاقے جہاں طاقتور منشیات فروش سرگرم ہیں۔
گزشتہ ماہ دارالحکومت میکسیکو سٹی میں میئر کلارا بروگاڈا اور دو معاونین کو ٹریفک میں سفر کے دوران گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ میکسیکو میں 2006ء سے شروع ہونے والی منشیات کے خلاف جنگ کے بعد سے اب تک تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 1 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میکسیکو میں
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔