لوگوں کو انصاف دلائیں گے، پہلی ترجیح عوامی شکایات دُور کرنا ہے: چیف جسٹس
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
لوگوں کو انصاف دلائیں گے، پہلی ترجیح عوامی شکایات دُور کرنا ہے: چیف جسٹس WhatsAppFacebookTwitter 0 18 June, 2025 سب نیوز
پشاور(آئی پی ایس) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ لوگوں کو انصاف دلائیں گے، عوام کو انصاف کی ہماری پہلی ترجیح عوامی شکایات دُور کرنا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ نومنتخب کابینہ کو مبارک باد دیتا ہوں، بار اور بنچ کو کوئی علیحدہ نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا ہر اقدام قانون کی حکمرانی کیلئے ہوگا، آپ اپنے بڑوں کو بھولیں نہیں، نوجوانوں کو اپنے بڑوں کو فالو کرنا ہوگا، نوجوانوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے، ترقیاتی منصوبوں کو سپورٹ کریں، بار ایسوسی ایشن اس کی حمایت کریں، اس کا فائدہ سب کو ہوگا، پشاور میں کچہری کمپلیکس بنا رہے ہیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی ترجیح عوام کی شکایات کو دور کرنا ہے، ہمارے ہاں اچھے وکلا رہے ہیں وہ ہمارے رہنما تھے۔
چیف جسٹس نے عبداللطیف آفریدی، بیرسٹر ظہور الحق اور دیگر سینئر وکلا کو خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ وکلا اور ججز کو سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، ماتحت عدلیہ کی مشکلات کا احساس ہے، لوگوں کو انصاف دلائیں گے۔
بعد ازاں قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس سید محمد عتیق شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی تقریب میں شرکت قابل ستائش ہے، ہمیں جدید سہولیات سے فائدہ اٹھانا چاہیے یہ وقت کی ضرورت ہے، ہمیں قانون کی حکمرانی کی بالادستی کیلئے کوشش کرنی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ 2لاکھ 36 ہزار کیسز ماتحت عدلیہ میں زیرالتوا ہیں جو بڑی تعداد ہے، فیملی کورٹس میں بہت سے کیسز زیر سماعت ہیں، ہمیں اس طرف توجہ دینا ہوگی، تمام بار ایسوسی ایشنز کو کیسز کو جلد نمٹانے میں تعاون کرنا چاہیے۔
قائم مقام چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بار اور عدلیہ کو عام لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، جوڈیشنل اکیڈمی میں جونیئر وکلا کی ٹریننگ کی جارہی ہے ۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرراولپنڈی: نان کسٹم سگریٹ کے خلاف کارروائی، ایف بی آر ٹیم پر جان لیوا حملہ، مقدمہ درج راولپنڈی: نان کسٹم سگریٹ کے خلاف کارروائی، ایف بی آر ٹیم پر جان لیوا حملہ، مقدمہ درج پاکستان نے غزہ کی صورتحال کو انسانیت کے ضمیر پر دھبہ قرار دے دیا ایران میں اسرائیلی حملے سے شہادتوں کی تعداد 585 تک جا پہنچی، 1326 زخمی مودی نے ٹرمپ سے کہا ہے بھارت پاکستان سے تنازع پر کبھی ثالثی قبول نہیں کریگا، وکرم مسری ہم صیہونیوں پر کوئی رحم نہیں کریں گے: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای مجھ میں اور شہباز میں کوئی فرق نہیں، وزیراعظم کوئی بھی ہو فرق نہیں پڑتا ،ہم ایک ہیں، نواز شریفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پہلی ترجیح چیف جسٹس کرنا ہے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب