زباں فہمی252؛تحفظات ....مگر کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
قارئین کرام! موضوع پر گفتگو کرنے سے پہلے وہی دُکھڑا رونا پڑرہا ہے کہ ہمارے یہاں:
ا)۔ اہل قلم کی غالب اکثریت پڑھتی کم، لکھتی زیادہ اور بولتی اُس سے بھی زیادہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں تحقیق اور رَدِّتحقیق کا عُنصُر کہاں سے نمایاں ہوگا۔ یہاں تو لوگ کور تقلید میں سُنی سُنائی باتوں ہی کو سَنَد سمجھتے اور پھیلادیتے ہیں۔
ب)۔ یہاں ہر دوسرا شخص اپنے تئیں ہر مضمون /موضوع اور شعبے کا ماہر بنا ہوا ہے۔ دین، کھیل (خصوصاً کرکٹ)، سیاست اور اِصلاحِ زبان یعنی اُردو کے جتنے ماہرین سوشل میڈیا نے پیدا کیے ہیں، اتنے شاید کئی عشروں سے حقیقتاً پیدا نہیں ہوئے۔ لوگ تُکّے اور قیاس کی بنیاد پر اَپنی نئی لغت ترتیب دینے کو عار نہیں سمجھتے، نیز اہلِ زبان اور غیراہلِ زبان کا فرق بھی شاذہی سمجھا جاتا ہے۔
راقم کو سلسلہ زباں فہمی کے مختصر کالموں اور مفصل مضامین میں بعض موضوعات، بوجوہ مکرر لکھنے پڑتے ہیں، آج ایسا ہی ایک موضوع ہے جس پر کالم لکھ چکا ہوں، وڈیو بناکر ’زباں فہمی‘ کے یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کرچکا ہوں اور تمام سوشل میڈیا پر بارہا تصحیح کرچکا ہوں کہ ’تحفظات‘ جیسے بھونڈے لفظ کا انگریزی اصطلاح Reservations کی جگہ بطور ترجمہ /متبادل استعمال غلط ہے۔ خاکسار نے ایک سے زائد بار، اس کے قائلین سے اس بابت استفسار کیا تھا کہ اگر Reservations کا ترجمہ تحفظات صحیح ہے تو پھر واحد یعنی Reservation کا ترجمہ کیا ہوگا.
سلسلہ زباں فہمی کا اوّلین کالم بعنوان ’صحافت کی ادائیں‘ 19اپریل 2015ء کو روزنامہ ایکسپریس کے ادبی صفحے ’ادب نگری‘ کی زینت بنا۔ اُس کا اقتباس پیشِ خدمت ہے: مجھے آپ کی اس تجویز پر تحفظات ہیں۔ اس جملے کا مطلب کیا ہوا؟ تحفظات کا واحد کیا ہے؟ انگریزی کے لفظ Reservations۔یا۔Reservation کا بھونڈا ترجمہ۔ استعمال کے لحاظ سے کہیں گے; ا)۔ مجھے اعتراض ہے ب)۔ مجھے خدشہ ہے ج)۔ میرا اختلاف ہے ۔یا۔مجھے اختلاف ہے۔ (ضرورت کے تحت جمع کا صیغہ استعمال ہوگا)۔
پچھلے دنوں کسی صاحب نے مجھے ایک پرانا مراسلہ بھیج کر رائے طلب کی۔ میں نے حسبِ عادت بے لاگ تبصرہ کردیا۔ مراسلہ ملاحظہ فرمائیں اور دیکھیں کہ ناواقفین کے لیے، اِن دنوں اصلاحِ زبان کس قدر آسان ہوگئی ہے۔ جو بات سمجھ میں نہ آئے یا اپنی مرضی کے خلاف ہو، اُسے اپنی فہم کے مطابق کچھ بھی قرار دے دیتے ہیں;اب اُن کا ارشاد نقل ہوگا تو کہیں نہ کہیں سند بھی بن ہی جائے گا:
’’الفاظ کا غلط استعمال؟
مراسلہ: محسن فارانی (دارالسلام، لاہور)
مکرمی! نوبہار بٹ صاحب نے نوائے وقت (5مئی) میں جانے کیسے یہ دعویٰ کرڈالا کہ ’’دنیا کی کوئی لغت لفظ تحفظات کے وہ معنی نہیں دیتی جو ہمارے ادیب، شاعر، سیاستدان، مقرر یا ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے سمجھتے ہیں۔‘‘ انہیں بلاوجہ اصرار ہے کہ ’’ریزرویشنز‘‘ کے معنی میں لفظ ’’تحفظات‘‘ کی جگہ متبادل الفاظ ’’خدشات‘‘ یا ’’اعتراضات‘‘ استعمال کئے جائیں حالانکہ یہ دونوں الفاظ اپنا الگ الگ مفہوم رکھتے ہیں اور ’تحفظات‘ کا ایک خاص مفہوم ہے جسے گزشتہ چند دہائیوں میں قبولِ عام حاصل ہوچکا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ’اس نے ذہنی تحفظ سے کام لیا‘ تو یہاں ’تحفظ‘ ریزرویشن یا ’دوسروں سے الگ محفوظ سوچ‘ کے معنی دیتا ہے۔ رہا لغت کا معاملہ تو عربی انگریزی کی معتبر لغت ’المورد الوسیط مزدوج‘ لفظ ’تحفظ‘ کے معنی ’حفاظت کرنا‘کے علاوہ ’احتیاط، احتراز، reservation، شرط، مشروط بیان‘ بھی دیتی ہے۔
جب اردو کا بکثرت ذخیرہ الفاظ عربی ہے تو پھر یہ بات قابل تسلیم نہیں ہے کہ لفظ تحفظات استعمال نہ کیا جائے کیونکہ یہ پچاس، سو یا ڈیڑھ سو سال پہلے مرتب ہونے والی اردو لغتوں میں نہیں ملتا اور یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اس کے معنی ہر حالت میں لفظ ’حفاظت‘ ہی سے جڑتے ہیں۔ الفاظ کے مفاہیم جامد نہیں ہوتے۔ وقت کے ساتھ ساتھ نئے نئے مفاہیم شامل ہوتے رہتے ہیں۔ چونکہ قومی زبان اردو اور اس کی ترویج کو ابھی تک کماحقہ سرکاری پذیرائی نہیں ملی، اس لیے تقسیم برصغیر کے بعد ہمارے ہاں کوئی مستند اور محقق اردو لغت وجود میں نہیں آئی، سوائے اردو لغت (تاریخی اصول پر) کے جو بہت ضخیم اور پچیس چھبیس جلدوں میں ہے، اس میں تحفظات کے معنی ’ذہن میں پہلے سے محفوظ خیالات‘ یا ’یادداشتیں‘ دئیے گئے ہیں‘‘۔ (روزنامہ نوائے وقت، لاہور۔ مؤرخہ 07 مئی 2013ء)
نقل ختم شُد
۱۔ ایک مرتبہ پھر ان صاحب سے وہی استفسار کرتا ہوں کہ اگر Reservations کا ترجمہ تحفظات صحیح ہے تو پھر واحد یعنی Reservation کا ترجمہ کیا ہوگا....کیا تحفظہ ۔یا۔تحفظ؟
۲۔ اگر ’رائج ومروّج‘ کے اصول کی ایسی ہی اندھادھند پیروی کی جائے تو پھر معیاری، رسمی، ادبی وکتابی زبان اور عوامی بول چال یا Slangمیں پایا جانے والا فرق بھی جلد مِٹ جائے گا۔
۳۔ اردو لغت بورڈ کی ’’اردو لغت (تاریخی اصول پر)‘‘ کی بائیس جلدیں ہیں۔
یادش بخیر! نوجوانی میں تحریک ِپاکستان سے متعلق کئی کتب زیرِمطالعہ رہیں جن میں سید حسن ریاض کی ’پاکستان ناگزیر تھا‘ کئی بار پڑھی۔ ابھی کچھ روز قبل اپنے نجی کتب خانے میں اس پر نظر پڑی تو یونہی ورق گردانی کرتے ہوئے انکشاف ہوا کہ مصنف موصوف نے انگریزی (غالباً اپنی بیاض ودیگر کتب) سے مواد اُردو میں منتقل کرتے ہوئے ایک اصطلاح s/Guarantees Assurance کا ترجمہ ’تحفظات‘ لکھ دیا ہے۔ یہ ترجمہ یا اختراع کبھی کسی اور پُرانی کتاب میں نظر سے نہیں گزری۔ ناواقفین کے لیے عرض ہے کہ سید حسن ریاض تحریک ِ پاکستان کے کارکن، صحافی اور جامعہ کراچی کے استاد تھے جن کی متعددکتب میں شامل اس مشہور کتاب کو 1967ء کا ’داؤد انعام‘ اور 1940ء تا 1980ء لکھی گئی کتب میں بہترین کتاب کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ وہ 1894ء میں بلندشہر، یوپی (ہندوستان) میں پیدا ہوئے اور 18اکتوبر1972ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔
اب ذرا دیکھتے ہیں کہ محض چند عشروں پہلے ہمارے نجی ٹیلیوژن چینلز اور اخبارات کے توسط سے ہماری زبان میں داخل ہونے والا یہ لفظ انگریزی۔اردولغات میں بھی موجودہے کہ نہیں۔ آکسفرڈ اِنگلش اردو ڈکشنری (از شان الحق حقّی) میں شامل ہونے والے نسبتاً نئے اندراج کے معانی کے ذیل میں Reservationکے چوتھے معنیٰ یوں لکھے گئے ہیں: کسی معاہدے وغیرہ پر واضح یا کنایۃً اعتراض یا اِستثناء۔ پھر حقّی مرحوم نے مروّجہ بولی ٹھولی کی مثال سے ترجمہ بھی پیش کیا کہ ....had reservations about the plan یعنی منصوبے کے بارے میں کچھ تحفظات تھے۔ بصداَدب عرض کرتا ہوںکہ حقّی مرحوم نے یہاں کوئی لسانی قیاس نہیں کیا بلکہ جدید رواج کے پیش نظر شُنیدہ مثال لکھ دی۔ لغت نوِیس کو بعض اوقات کوئی نکتہ فقط رائج ومروّج کے اصول کے تحت نقل کرنا پڑتا ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ وہ تحقیق کرے۔ اس ضمن میں سب سے بڑی مثال فرہنگِ آصفیہ کے فاضل مؤلف سید احمد دہلوی کی ہے جن کی تنہا کاوش سے اُردو کی اوّلین ’دائرۃ المعارف نُما‘ لغت یعنی Encyclopaedic dictionary منصہ شہود پر آئی، مگر کہیں کہیں وہ کسی باب میں تحقیق نہیں کرسکے، مثال کے طور پر مصالحہ اور مسالہ کی بحث دیکھ لیں۔
اسی طرح ایک مثال اردو لفظ ’تکان‘ بمعنیٰ تھکن یا تھکاوٹ (fatigue) کی ہے جس کا مُحرّف (بِگاڑ) تھکان ہمارے یہاں بولا جاتا ہے اور بعض ادیبوں اور شاعروں نے بھی استعمال کیا ہے، جبکہ یہ معیاری زبان نہیں، عوامی بول چال کی مثال ہے۔ حوالہ سرِدست پیش نہیں کرسکتا، البتہ فرہنگِ آصفیہ میں تکان اور تھکان دونوں موجود ہیں اور مولوی سید احمد دہلوی نے اس ضمن میں کوئی وضاحت نہیں کی جس کی اُن سے توقع تھی۔ فرہنگ آصفیہ کے مندرجات اس طرح ہیں:
تکان۔ (اردو): اسم مؤنث۔کسلمندی، تھکان، تھکاوٹ، ماندگی، اعضاشکنی، سُستی، آلکس، کاہلی، تکاسُل، ہچکولوں کا صدمہ۔ (آخری یکسر مختلف اور فارسی لفظ ’تکان‘ کے معانی میں شامل ہے: س ا ص)۔
تھکان۔ (ہندی): اسم مؤنث۔ماندگی ، کوفتگی، تکان۔
مولوی صاحب نے ایک ناگزیر وضاحت نہیں کی کہ فارسی میں بھی تکان موجود ہے، مگر فارسی لفظ تکان کے معانی یکسر مختلف ہیں اور فارسی میں اس کے معانی ہیں: جنبش، ارتعاش، لرزہ، لرزش، صدمہ، اضطراب، ہلانا، کُہنی مارنا وغیرہ )، جبکہ تھکاوٹ یا تھکن کو ’خستگی‘ کہتے ہیں۔
فارسی کی متعدد مستند لغات آنلائن دستیاب ہیں۔ لغت دہخُدا سے اقتباس پیشِ خدمت ہے:
معنی: تکان. ] ت َ [ (اِ) جنبش و حرکت، (یادداشت بخط مرحوم دہخدا). صدمہ و جنبش و لرزش و برجہیدگی از جای. (ناظم الاطباء). || ترس سخت ناگہانی. ترسی کہ از امر فجائی پیدا شود و دل بلرزاند. (یادداشت بخط مرحوم دہخدا). || لرزہ. (یادداشت ایضاً). رجوع بہ تکان دادن و تکان خوردن شود.
یہ معانی بہت آسان فہم ہیں۔ اب خستگی کے مفاہیم کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں جو وِکی پیڈیا نے متعدد فارسی لغات ودیگر کتب کی مدد سے پیش کیا ہے:
خستگی نوعی احساس نداشتن نیرو است]۱[ کہ باید از ضعف عضلانی تفکیک شود. خستگی برخلاف ضعف عضلانی معمولاً با استراحت رفع می شود.]۲[ خستگی می تواند خستگی جسمی ناشی از نبودن توان عضلانی یا خستگی ذہنی ناشی از فعالیت فکری طولانی باشد. خستگی واژہ ای عام تر از خواب آلودگی است. علل خستگی می تواند بیماری ہا (بیماری ہای خودایمنی، سرطان، کم خونی)، استرس، افسردگی، فیبرومیالژیا، سندرم خستگی مزمن، ایدز، بیماری کبدی، بیماری قلبی، بیماری لایم، پرواززدگی، بی خوابی و موارد دیگر باشند. (۳)
ان سب معانی کا خلاصہ یہی ہے کہ تھکن اور جسمانی کمزوری کو عام فارسی نیز طبّی زبان میں خستگی کہتے ہیں۔ توانائی کی کمی کے سبب اعصابی کمزوری ظاہر ہوتی ہے جو عموماً آرام سے دُور ہوجاتی ہے۔ یہ تھکن کسی اعصابی اہلیت کی کمی کے سبب جسمانی تھکن ہوسکتی ہے یا متواتر ذہنی ورزش یا محنت کے سبب، ذہنی تھکن بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے اسباب کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔ اس کے بعد ایک مرکب لفظ ’بے تکان‘ (یا بعض کے نزدیک بلا تکان) بھی ہے جس کے معانی ہیں، بلا تأمل، بغیر رُکے ہوئے، بلاتوقف، بے خوف وخطر، بے تحاشا، بہ آسانی اور بغیر تھکے ہوئے۔ اس کے استعمال میں بھی اکثر سہو ہوجاتا ہے۔
ہمارے یہاں روزمرّہ کا معمول ہے کہ تحریروتقریر میں ہونے والے لسانی مباحث میں عموماً تحقیق کا کشٹ نہیں اُٹھایا جاتا، بس یہ دیکھا کہا اور لکھا جاتا ہے کہ فُلاں نے یہ لکھا ہے۔ یہ کافی نہیں۔ ہمارے اہل قلم اور قارئین کرام کو بہرحال یہ سمجھنا چاہیے کہ بلاتحقیق کسی بھی لفظ کے کسی بھی معنیٰ میں استعمال سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ایک بار پھر اپنا پُرانا قول دُہرانا پڑتا ہے کہ ہمارے اہل قلم پڑھتے کم، لکھتے زیادہ اور بولتے اُس سے بھی زیادہ ہیں۔
مجھے ’زباں فہمی‘ کے سلسلے میں سرقہ وتوارد اور چربہ وجعل سازی پر لکھے ہوئے ایک عرصہ گزرا۔ اپنے مضمون میں بعض دستیاب مواد سے بوجوہ صَرفِ نظر کرنا پڑا تھا تو بعض حوالے دستیاب نہ تھے۔ ان دنوں ایک ’بڑے صاحب‘ کی مدح سرائی کا سلسلہ زورشور سے جاری ہے جو اِسی زُمرے میں آتے ہیں۔
اردو کے بعض بہت بڑے ناموں کے متعلق تحقیق یا رَدّتحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ جعل ساز تھے، دوسروں کی معاشی احتیاج پورا کرتے ہوئے اُن سے بڑے بڑے تحقیقی، علمی وادبی کام کروانے کے بعد، اپنے نام سے شائع کروالیتے تھے ۔آج اُن میں شامل ایک بزرگ کی تعریف میں لوگوں کا بہت بڑا حلقہ رطب اللسان ہے، مگر یہ نہیں جانتا کہ ان کی بہت سی کتب میں چند ایک ہی اُن کے اپنے قلم سے نکلی ہیں، باقی دوسروں کی محنت اور تحقیق کا نتیجہ ہے۔ اگر کوئی غریب اپنی عارضی یا مستقل معاشی تنگی کے سبب ایسا کارنامہ انجام دیتا ہے تو ہمارے یہاں لوگ اسے بھی مختلف طریقوں سے نشانہ یا ہدفِ تنقیص بناتے ہیں (تنقید تو صحیح اور غلط، پختہ اور خام کو جُدا کرتی ہے)، مگر یہ کوئی نہیں سوچتا کہ ایک باصلاحیت، ہنرمند، صاحب ِ علم وفضل شخص پر اِتنا بُرا وقت کیوں آپڑا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہمارے یہاں زباں فہمی تحقیق کا کا ترجمہ کے معانی جاتا ہے کے معنی ہوئے ا مجھے ا تو پھر کے سبب
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی