اسرائیل۔ایران جنگ میں امریکی شمولیت کے کیا امکانات ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
اسرائیل ایران جنگ کے تناظر میں مشرقِ وسطٰی کی صورتحال کافی کشیدہ ہو چکی ہے اور ایک طرف مغربی ممالک جو اسرائیل کی حمایت میں سرگرم ہیں وہیں دوسری طرف روس ایران کی حمایت کرتا نظر آتا ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی چنگاری مشرقِ وسطٰی میں تیسری جنگ عظیم کا باعث بن سکتی ہے۔
اس مفروضے کو اس بات سے تقویت ملتی ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور برطانیہ نے خلیج میں اپنی فوجی موجودگی میں خاطر خواہ اضافہ کیا ہے لیکن بظاہر دوںوں ممالک یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ یہ اضافہ خطے میں اُن کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے نہ کہ اسرائیل ایران جنگ میں حصہ لینے کے لیے۔ خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بار بار یہ کہنا ہے کہ اُنہیں اس جنگ سے کوئی دلچسپی نہیں لیکن وہ ایران سے جوہری ہتھیاروں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل ایران تنازع پانچویں روز میں داخل، بڑی جنگ کا خدشہ، خامنہ ای کو صدام جیسے انجام کی دھمکی
حال میں اسرائیل۔ایران جنگ کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم صرف جنگ بندی نہیں بلکہ اس سے اچھا حل چاہتے ہیں جو کہ تنازع کا مکمل خاتمہ کرے۔ گو کہ یہ ابھی تک وضاحت طلب بات ہے کہ مکمل خاتمے سے صدر ٹرمپ کی کیا مراد تھی لیکن اُن کے عمومی بیانات کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ شاید پاکستان اور بھارت کی طرح سے اس جنگ کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں۔
امریکا اور برطانیہ کی جانب سے فوجی موجودگی میں اضافہامریکا نے اہم بحری تجارتی شاہراہ آبنائے ہرمز میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے۔ امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس نمٹز کو جنوبی چین کے سمندر سے مشرقِ وسطٰی منتقل ہونے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے جبکہ مشرقِ وسطٰی میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑہ یو ایس ایس کارل ونسن بھی پہلے سے موجود ہے۔یہ دونوں بحری بیڑے 44 سے 75 ہوائی جنگی جہاز ساتھ لیے پھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکا کی جانب سے 4 سے 6 ڈسٹرائر شپس تعینات اور آبدوزوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح سے خلیجی ممالک میں امریکی فوجیوں کی تعداد بھی 34000 سے بڑھ کر 50000 ہو چُکی ہے۔ برطانیہ نے مختلف فوجی اڈوں پر اپنے مختلف اقسام کے لڑاکا طیاروں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے لیکن برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ اضافہ برطانوی مفادات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔
امریکا ایران پر دباؤ کے ساتھ ساتھ جنگ کی تیاری بھی کر رہا ہے: سابق سفیر مسعود خانامریکا میں پاکستان کے سابق سفیر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب ایمبیسیڈر مسعود خان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا، اسرائیل۔ایران جنگ کو لے کر 2 نکاتی حکمتِ عملی پر کام کر رہا ہے۔ ایک طرف وہ ایران پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ ایران امریکی شرائط کے تحت معاہدہ کر لے۔ دوسری طرح وہ جنگ کی تیاری بھی کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر اس وقت مشرقِ وسطٰی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر اس جنگ کے دائرہ کار میں اضافہ ہوا اور آبنائے ہرمز میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو امریکا جنگ میں شریک بھی ہو سکتا ہے۔ دوسری صورت میں پس پردہ سفارت کاری جاری ہے اور جنگ بندی بھی ہو سکتی ہے لیکن اُس کے لیے امریکا کو قیادت کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
مغربی دنیا کی حکمتِ عملی سمجھ سے بالاتر ہے: نائلہ چوہانایران میں پاکستان کی سابق سفارتکار نائلہ چوہان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت امریکا محتاط پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ صدر ٹرمپ نے واضح کر دیا ہے کہ اُن کی اِس جنگ میں کوئی دلچسپی نہیں۔ لیکن اسرائیل امریکا کو اس جنگ میں ملوّث کرنا چاہتا ہے۔ جہاں تک آبنائے ہرمز میں امریکا کی فوجی موجودگی میں اضافے کی بات ہے تو اُس کا سبب یہ ہے کہ امریکا اس اہم تجارتی راستے کو محفوظ رکھنا چاہتا کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جہاں سے خلیجی ممالک معدنی تیل اور دیگر برآمدات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اگر آبنائے ہرمز کو بند کرنا چاہے گا تو یہ اُس کے اپنے مفاد کے خلاف ہو گا اور اُنہیں آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرنا چاہیے۔ دوسری طرف برطانیہ نے بھی خلیجی ممالک اور سائپرس میں ایئر فیلڈز پر اپنے جنگی طیارے بھیجے ہیں جن کے بارے میں برطانیہ کا کہنا ہے کہ یہ خطّے میں برطانوی مفادات کے تحفظ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔
نائلہ چوہان نے کہا کہ روس ایران کی حمایت کر رہا ہے اور اگر جنگ بڑھی تو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اس وقت دارومدار اس بات پر ہے کہ ایران کس طرح سے ردعمل دیتا ہے۔ اسرائیل کو آج تک مشرقِ وسطٰی میں کسی ملک نے اُس طرح سے جواب نہیں دیا جس طرح حالیہ کچھ دنوں میں ایران کی جانب سے آیا لیکن تباہی سہنے کا اُس میں حوصلہ نہیں۔ اسرائیل یہ کہہ رہا ہے کہ وہ یہ جنگ مغربی مفادات کی خاطر لڑ رہا ہے۔ دوسری طرف ایرانی وہ قوم ہے جن کی 8 سال عراق کے ساتھ جنگ رہی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل جو ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کو شہید کرنا چاہتا ہے اُسے یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ اُنہیں شہید کر بھی دے گا تو شوری کونسل نئے رہبر کا انتخاب کر لے گی۔ لیکن جہاں تک یہ سوال ہے کہ آیا صدر ٹرمپ امریکا کو اس جنگ میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو اِس کا جواب ہی نہیں کیونکہ فی الحال ایسا نظر نہیں آتا۔ جب صدر ٹرمپ جلدی میں جی 7 سمٹ چھوڑ کر چلے گئے تو فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون نے کہا کہ وہ اسرائیل۔ایران جنگ بندی کے لیے گئے ہیں لیکن صدر ٹرمپ نے اِس بات کا بُرا منایا اور کہا کہ اُنہیں ابھی اس سے زیادہ اہم کام کرنے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران ایران اسرائیل جنگ 2025 کشیدگی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران ایران اسرائیل جنگ 2025 کشیدگی اسرائیل ایران جنگ میں امریکی کہنا ہے کہ چاہتے ہیں کر رہا ہے نے کہا کہ کہا کہ ا ہے کہ ا ا نہیں لیکن ا نہیں ا کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم
رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔
حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔
ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ