بھائیوں کی طرح مل جل کر رہیں، شیعہ اور سنی کے اختلافات کی باتوں سے کیوں دشمن کو فائدہ پہنچاتے ہیں، آیت اللہ خامنہ ای
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونی طاقتیں، خصوصاً برطانیہ، ہمیشہ سے فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔
ایک حالیہ ویڈیو میں، آیت اللہ خامنہ ای نے زور دیا کہ مسلمانوں کو بھائی چارے کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے اور انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیوں دشمن کے فائدے کے لئے کام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے پاس بہت کچھ مشترک ہے، لیکن انگریزوں نے ہمیشہ سے شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کو ہوا دی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ عقائد اور نظریات پر مختلف خیالات ہونے کے باوجود، ان اختلافات کو نظر انداز کرنا چاہئے اور اتحاد کو ترجیح دینا چاہئے۔ “کیا ہم ان سب کو نظر انداز نہیں کر سکتے؟” انہوں نے پوچھا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات حالیہ دنوں میں کشیدگی کا شکار رہے ہیں، خصوصاً سرحدی حملوں اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے شدت پسند گروپوں کے حوالے سے الزامات کے بعد۔ تاہم، آیت اللہ خامنہ ای کی اپیل علاقائی استحکام اور اسلامی یکجہتی کو فروغ دینے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
پاکستانی حکام اور عوام دونوں ہی اس پیغام کو مثبت انداز میں لے رہے ہیں، حالانکہ کچھ حلقوں نے اسے دیر سے آنے والی اپیل قرار دیا ہے۔ تاہم، بیشتر لوگ اسے علاقائی امن اور استحکام کے لئے ایک اہم قدم سمجھ رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:دو تنازعات، ایک ایجنڈا، مسلم خودمختاری پر مشترکہ جارحیت
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔