اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور بھائی چارے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونی طاقتیں، خصوصاً برطانیہ، ہمیشہ سے فرقہ وارانہ تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔
ایک حالیہ ویڈیو میں، آیت اللہ خامنہ ای نے زور دیا کہ مسلمانوں کو بھائی چارے کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہئے اور انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیوں دشمن کے فائدے کے لئے کام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے پاس بہت کچھ مشترک ہے، لیکن انگریزوں نے ہمیشہ سے شیعہ اور سنی کے درمیان اختلافات کو ہوا دی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ عقائد اور نظریات پر مختلف خیالات ہونے کے باوجود، ان اختلافات کو نظر انداز کرنا چاہئے اور اتحاد کو ترجیح دینا چاہئے۔ “کیا ہم ان سب کو نظر انداز نہیں کر سکتے؟” انہوں نے پوچھا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات حالیہ دنوں میں کشیدگی کا شکار رہے ہیں، خصوصاً سرحدی حملوں اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے شدت پسند گروپوں کے حوالے سے الزامات کے بعد۔ تاہم، آیت اللہ خامنہ ای کی اپیل علاقائی استحکام اور اسلامی یکجہتی کو فروغ دینے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
پاکستانی حکام اور عوام دونوں ہی اس پیغام کو مثبت انداز میں لے رہے ہیں، حالانکہ کچھ حلقوں نے اسے دیر سے آنے والی اپیل قرار دیا ہے۔ تاہم، بیشتر لوگ اسے علاقائی امن اور استحکام کے لئے ایک اہم قدم سمجھ رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:دو تنازعات، ایک ایجنڈا، مسلم خودمختاری پر مشترکہ جارحیت

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: خامنہ ای انہوں نے

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل