مرجع عالی قدر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی جانب اٹھنے والا ہاتھ کاٹ دینگے، حوزہ علمیہ نجف
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ہم واضح کرتے ہیں کہ مرجعیتِ شیعہ محض ایک سیاسی منصب نہیں بلکہ امت مسلمہ کی وحدت، بیداری اور ہدایت کا مینار ہے؛ جو ایران سے لے کر عراق، لبنان، یمن، بحرین، پاکستان اور تمام اسلامی سرزمینوں میں نورِ بصیرت پھیلا رہا ہے۔ مرجعیت پر کسی بھی قسم کی جارحیت، تمام امت مسلمہ سے اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق نجف اشرف کے حوزہ علمیہ کا ٹرمپ کی گستاخانہ دھمکیوں کے خلاف شدید الفاظ میں بیانیہ جاری کیا ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ﴿وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ﴾ (حج/۴۰) ہم، علمائے حوزه علمیه نجف اشرف، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مرجع عالیقدر، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای (دامظله) کو دی گئی گستاخانہ اور شرمناک دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ یہ بے مثال اور دیوانہ وار اقدام، جو وائٹ ہاؤس کی سیاسی حماقت اور اخلاقی زوال کا واضح ثبوت ہے، اس بات کا گواہ ہے کہ استکباری نظام نہ انسانی اصولوں کا پابند ہے، نہ ملتوں کی عزت کا قائل، اور نہ ہی اسلامی مقدسات کی حرمت کا پاسدار۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ مرجعیتِ شیعہ محض ایک سیاسی منصب نہیں بلکہ امت مسلمہ کی وحدت، بیداری اور ہدایت کا مینار ہے؛ جو ایران سے لے کر عراق، لبنان، یمن، بحرین، پاکستان اور تمام اسلامی سرزمینوں میں نورِ بصیرت پھیلا رہا ہے۔ مرجعیت پر کسی بھی قسم کی جارحیت، تمام امت مسلمہ سے اعلانِ جنگ کے مترادف ہے، اور یہ اقدام ہماری توحیدی تہذیب کے خلاف کھلی خیانت شمار ہوگا،۔ مرجعیت کیخلاف اٹھنے والا ہر ہاتھ کاٹ دیا جائیگا۔ ہم اس دھمکی کو صرف ایک شخص پر حملہ نہیں، بلکہ پوری امتِ اسلامیہ کی توہین سمجھتے ہیں۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ جانیں ہماری قربان، مگر مرجعیت کی حرمت پر کوئی آنچ برداشت نہیں کریں گے۔ ہم، اپنی جان و مال اور خون کے آخری قطرے تک، اپنے رہبر و مقتدای معظم کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر محاذ پر دشمن کے مقابل سینہ سپر رہیں گے۔ ہم تمام اسلامی ممالک، دینی مراکز، علمائے کرام، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دنیا کے آزاد ضمیر افراد سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کھلی امریکی جارحیت کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں، اور استکبارِ عالمی و صہیونی سازشوں کے مقابل مضبوط صف بنائیں۔ ہم اللہ رب العزت سے دعا گو ہیں کہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہای (دام ظله) کو امت مسلمہ کے لیے محفوظ و سلامت رکھے، اور دشمنانِ دین و انسانیت کو دنیا و آخرت میں ذلت و ہلاکت سے دوچار فرمائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کرتے ہیں کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :