ایرانی میزائلوں کیخلاف میزائل دفاعی نظام کی شرح ناکامی میں اضافہ ہورہا ہے، اسرائیلی حکام
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
اسرائیلی حکام نے تسلیم کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے میزائل دفاعی نظام غیر موثر ہوتا جارہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس حکام نے تسلیم کیا کہ ایران کی جانب سے داغے جانے والے مختلف میزائلوں حملوں سے اسرائیلی میزائل دفاعی نظام کی صلاحیتیں متاثر ہو رہی ہیں۔
اسرائیلی حکام نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ ایران کے تیز رفتار میزائلوں نے اپنے اہداف کی جانب جاتے ہوئے اسرائیلی میزائل دفاعی نظام کو زیادہ وقت نہیں دیا۔
حکام نے تسلیم کیا کہ اب اسرائیلی میزائل دفاعی نظام محض 65 فیصد ایرانی میزائیلوں کو روک سکے، جبکہ اس سے قبل یہ شرح 90 فیصد تھی۔
اسرائیلی حکام نے یہ بھی مانا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایرانی بہتر اور تیز رفتار میزائلوں کا استعمال بڑھا رہے ہیں جس سے نمٹنے کےلیے اسرائیلی سسٹم کو 6 سے 10 منٹ کا وقت مل پاتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایرانی اپنے میزائلوں کی رہنمائی کےلیے آخری مرحلے کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایرانی میزائل درست انداز میں اپنے ہدف کو تباہ کر پاتے ہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میزائل دفاعی نظام اسرائیلی حکام حکام نے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔