فلسطین حمایتی گروپ کے کارکن برطانوی ائیر فورس کے اڈے میں داخل، طیاروں کو نقصان پہنچایا
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: فلسطین ایکشن کے کارکنوں نے برطانیہ کی رائل ایئر فورس کے اڈے میں گھس کر طیاروں کو نقصان پہنچایا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق فلسطین کی حمایت میں سرگرم تنظیم ‘فلسطین ایکشن’ سے تعلق رکھنے والے کارکن آکسفورڈ شائر میں واقع رائل ایئر فورس کے اڈے (RAF Brize Norton) میں داخل ہوئے اور وہاں موجود دو طیاروں کو نقصان پہنچایا۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 2 لوگ اسکوٹرز پر سوار ہوکر رائل ائیر فورس کے ری فیولنگ کے لیے استعمال ہونے والے طیاروں تک پہنچے اور پھر آگ بجھانے والے آلات کے ذریعے ان جہازوں کے ٹربائن انجن میں لال رنگ کا اسپرے کیا۔
فلسطین ایکشن گروپ کا کہنا ہے کہ طیاروں کو نقصان اس لیے پہنچایا کیونکہ برطانوی ائیر فورس اسرائیل کو گارگوز بھیجنے، غزہ میں جاسوسی کرنے اور اسرائیلی طیاروں کی ری فیولنگ کرنے کا عملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
برطانوی وزارت دفاع نے رائل ائیرفورس کے جہازوں کو نقصان پہنچانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاملے کی چھان بین کے لیے پولیس کے ساتھ مل کرکام کررہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طیاروں کو نقصان فورس کے
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔