WE News:
2026-06-02@23:06:42 GMT

بیوی سے جھگڑے پر شوہر نے معصوم بچے کو چولہے میں جھونک دیا

اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT

بیوی سے جھگڑے پر شوہر نے معصوم بچے کو چولہے میں جھونک دیا

کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں ایک شخص کو اپنے 10 ماہ کے بچے کو جلتے چولہے میں پھینک کر شدید جھلسا دینے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سالانہ ہزاروں مائیں اور لاکھوں بچے کیوں مر رہے ہیں؟

پولیس کا کہنا ہے کہ  ملزم کا بیوی سے جھگڑا ہوا جس پر طیش میں آکر اس نے اپنے بیٹے کو جلتے چولہے پر پھینک دیا جس کے باعث بچہ جھلس گیا۔

بچے کو این آئی سی ایچ منتقل کردیا گیا جبکہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے: نوزائیدہ بچے کو خوش اور صحت مند کیسے رکھا جائے؟

پولیس نے بتایا کہ میاں بیوی میں اکثر جھگڑا رہتا تھا اور خاتون شوہر سے طلاق کی خواہاں تھیں تاہم اس جھگڑے میں معصوم بچہ آگ میں پھینک دیے جانے سے زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہوچکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بچہ زخمی کراچی میاں بیوی جھگڑا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بچہ زخمی کراچی میاں بیوی جھگڑا بچے کو

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت