کون سے آن لائن کام کرنے والوں پر ٹیکس عائد ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
حکومت نے آئندہ مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے دیگر سیکٹرز کے ساتھ آن لائن کام کرنے، خرید و فرخت کرنے اور آن لائن تعلیمی اداروں اور اکیڈمیز پر بھی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ گو 10 جون کو پیش کیے گئے بجٹ میں اس ٹیکس کی تفصیل سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا تھا لیکن اب اس کی تفصیلات سامنے آگئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آن لائن کاروبار اور کوریئر سروس والوں کے لیے بری خبر
آن لائن کاروبار کرنے والوں پر ٹیکس عائد کرنے کی مخالفت جبکہ آن لائن پڑھانے والوں پر ٹیکس عائد کرنے کی حمایت کی گئی ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے تمام آن لائن کاروبار کرنے والوں پر 15 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز مسترد کر دی جبکہ آن لائن تعلیمی اداروں اور اکیڈمیز پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز منظور کرلی ہے۔
مزید پڑھیے: آن لائن خریداری کرنے والے محتاط رہیں، پی ٹی اے کی وارننگ
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ آن لائن پڑھنے پڑھانے کا رجحان بڑھ گیا ہے، اس آن لائن اکیڈمیز کا کاروبار کروڑوں میں چل رہا ہے، ایک آن لائن اکیڈمی ماہانہ 2 کروڑ تک کما رہی ہے، اگر کوئی اکیڈمی یا ٹیچر آن لائن پڑھائی سے کروڑوں کہا رہا ہے تو اسے اب ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔
سینیٹ کمیٹی نے دیگر آن لائن کاروبار کرنے والوں پر ٹیکس عائد کرنے سے متعلق بجٹ میں دی گئی تجویز کو مسترد کر دیا۔
مزید پڑھیں: آن لائن کاروبار کے فروغ میں خواتین کیسے اہم کردار ادا کر رہی ہیں؟
مسلم لیگ ن کی سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ ہم لوگ ای کامرس پر انکم ٹیکس لگانے کی تجویز کو اس لیے مسترد کرتے ہیں کہ حکومت دکانداروں پر ٹیکس کا نفاذ تو ابھی تک نہیں کر سکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دکانداروں کی تعداد بھی زیادہ اور آمدنی بھی زیادہ ہے لہٰذا پہلے ان پر ٹیکس کا نفاذ ہو پھر آن لائن کاروبار کرنے والوں پر ٹیکس عائد کیا جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آن لائن کاروبار آن لائن کاروبار پر ٹیکس بجٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ن لائن کاروبار ا ن لائن کاروبار پر ٹیکس آن لائن کاروبار کرنے والوں پر کرنے والوں پر ٹیکس عائد پر ٹیکس عائد کرنے ٹیکس عائد کرنے کی ا ن لائن کاروبار
پڑھیں:
لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
—فائل فوٹوپنجاب کے محکمۂ قانون نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی۔
ذرائع کے مطابق محکمۂ خزانہ نے 12جون کو بجٹ پیش کرنےکی تجویز دی ہے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا کہنا ہے کہ جمعے کو سرکاری چھٹی کی وجہ سے بجٹ پیش نہ کیا جائے اور نہ اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا جائے۔
پنجاب حکومت نے غیر قانونی اسلحہ کے خاتمے کیلئے نیا قانون تیار کر لیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں کریک ڈاؤن تیز کرنے اور سخت سزائیں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
محکمۂ قانون کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے معمول کے اجلاس میں زیرِ التوا بل بھی منظور ہو جائیں گے اور 3 بلز منظور کرانے ہیں اس لیے معمول کا اجلاس طلب کیا جائے۔
محکمۂ قانون پنجاب کا یہ بھی کہنا ہے کہ بجٹ کے لیے مخصوص اجلاس میں بلز منظور نہیں ہوسکتے۔