ایران کو حساس مشینری کی فراہمی کے الزام پر امریکا نے 20اداروں پر پابندیاں عائد کردیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
ایران کو حساس مشینری کی فراہمی کے الزام پر امریکا نے 20اداروں پر پابندیاں عائد کردیں WhatsAppFacebookTwitter 0 20 June, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (سب نیوز)ٹرمپ انتظامیہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں ہانگ کانگ میں قائم دو ادارے بھی شامل ہیں۔
برطانوی روزنامہ گارجیئن نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کو حساس مشینری کی سپلائی کے الزام میں کم از کم 20 اداروں، 5 افراد اور 3 بحری جہازوں پر پابندیاں عائد کردی ہیں، ان میں سے دو ادارے ہانگ کانگ میں قائم ہیں۔
آج امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی)کے مطابق آج کی یہ کارروائی نیشنل سیکیورٹی صدارتی میمورنڈم-2 کے تحت کی جا رہی ہے، جس کا مقصد ایران کو میزائل اور دیگر ہتھیاروں کی صلاحیتوں کی ترقی سے روکنا ہے۔
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد پاسداران انقلاب اور اس کے معاونین کو ان وسائل تک رسائی سے محروم کرنا، کمزور کرنا یا انہیں درہم برہم کرنا ہے جو ان کی خطے کو غیر مستحکم کرنے والی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین واپڈا جنرل (ر)سجاد غنی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا چیئرمین واپڈا جنرل (ر)سجاد غنی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا بھارت سندھ طاس معاہدہ نہیں مانتا تو ایک اور جنگ لڑے ہم دوبارہ اسے شکست دینگے، بلاول بھٹو، سفارتی مشن مکمل کر کے وطن... پاکستان کا سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اظہار کا اعلان مشرق وسطی کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس،ایران اسرائیل فوری جنگ بندی کا مطالبہ مشرق وسطی میں امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، وزیراعظم کی امریکی وزیر خارجہ سے گفتگو ایران اسرائیل جنگ مزید بڑھی تو کسی کے قابو میں نہیں رہے گی،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پابندیاں عائد ایران کو
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔