چیئرمین واپڈا جنرل (ر)سجاد غنی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
چیئرمین واپڈا جنرل (ر)سجاد غنی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 20 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر)سجاد غنی نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل(ر)سجاد غنی نے اپنے عہدے سے استعفی دیا اور وزیراعظم شہباز شریف نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا استعفیٰ منظوری کے لیے کابینہ ڈویژن کو ارسال کر دیا ہے۔
وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل (ر)سجاد غنی کی واپڈا میں خدمات کو سراہا اور کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر)سجاد غنی نے قومی ادارے کو موثر انداز میں چلانے اور توانائی کے شعبے میں اہم منصوبہ جات کی نگرانی میں کلیدی کردار ادا کیا۔وزیراعظم نے مستعفی چیئرمین واپڈا کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت سندھ طاس معاہدہ نہیں مانتا تو ایک اور جنگ لڑے ہم دوبارہ اسے شکست دینگے، بلاول بھٹو، سفارتی مشن مکمل کر کے وطن واپس پہنچنے پر شاندار استقبال بھارت سندھ طاس معاہدہ نہیں مانتا تو ایک اور جنگ لڑے ہم دوبارہ اسے شکست دینگے، بلاول بھٹو، سفارتی مشن مکمل کر کے وطن... پاکستان کا سلامتی کونسل کے اجلاس میں ایران کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اظہار کا اعلان مشرق وسطی کی صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس،ایران اسرائیل فوری جنگ بندی کا مطالبہ مشرق وسطی میں امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، وزیراعظم کی امریکی وزیر خارجہ سے گفتگو ایران اسرائیل جنگ مزید بڑھی تو کسی کے قابو میں نہیں رہے گی،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ اسرائیل کو اقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق جواب دے رہے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ کا انسانی حقوق کونسل میں خطاب
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اپنے عہدے سے استعفی چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔