وزیراعظم کا بڑا اقدام؛ پی این ایس سی کے بیڑے میں وسعت کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے سمندری تجارتی شعبے میں خود انحصاری کے لیے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (PNSC) کے بیڑے میں وسعت لانے کا فیصلہ کر لیا ہے، انہوں نے قومی خزانے پر سالانہ 4 بلین ڈالر کا زرِ مبادلہ بچانے کے لیے لیز پر نئے بحری جہاز حاصل کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق وزیراعظم کی زیر صدارت PNSC کے امور پر اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری اور پی این ایس سی کے اعلیٰ افسران شریک تھے، اجلاس میں ادارے کی موجودہ کارکردگی اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو سمندری راستے سے درآمدات و برآمدات کی مد میں بھاری اخراجات کا سامنا ہے، جس کی بنیادی وجہ قومی شپنگ بیڑے کی محدود صلاحیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی این ایس سی کے بیڑے میں بحری جہازوں کی کمی کے باعث پاکستان کو ہر سال سمندری تجارت کے اخراجات کی مد میں 4 ارب ڈالر کا زرِ مبادلہ خرچ کرنا پڑتا ہے، جو ملکی معیشت پر ایک ناقابل برداشت بوجھ ہے۔
وزیراعظم نے PNSC کو ہدایت کی کہ وہ دو ہفتوں کے اندر ایک جامع بزنس پلان پیش کرے جس میں نئے بحری جہازوں کے حصول، بیڑے کی توسیع، اور ملکی معیشت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے کا مکمل لائحہ عمل شامل ہو۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ PNSC کے پاس اس وقت مختلف اقسام کے 10 بحری جہاز موجود ہیں جن کی مجموعی مال برداری کی صلاحیت 7 لاکھ 24 ہزار 643 ٹن ہے۔ تاہم، موجودہ بیڑا پاکستان کی تجارتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے، جس کے باعث کمرشل شپنگ کی اکثریت بین الاقوامی کمپنیوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال کے پیشِ نظر قومی سطح پر خود انحصاری اور وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی شپنگ صلاحیت کو ترجیحی بنیادوں پر بڑھائے۔ انہوں نے زور دیا کہ پی این ایس سی کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور نجی و بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے بھی راہیں ہموار کی جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی این ایس سی کے لیے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔