عوامی زمینوں اور حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، سید علی رضوی اور آغا راحت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی صدر آغا علی رضوی نے اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ قائد ملت جعفریہ گلگت بلتستان آغا راحت حسین الحسینی سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ایران و اسرائیل کشیدگی، گلگت بلتستان کے عوامی مسائل، خصوصامتنازعہ لینڈ ریفارمز بل اور خطے کے سیاسی و سماجی حالات پر تفصیلی گفت وشنید کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صوبائی صدر آغا علی رضوی نے اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ قائد ملت جعفریہ گلگت بلتستان آغا راحت حسین الحسینی سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ایران و اسرائیل کشیدگی، گلگت بلتستان کے عوامی مسائل، خصوصامتنازعہ لینڈ ریفارمز بل اور خطے کے سیاسی و سماجی حالات پر تفصیلی گفت وشنید کی گئی۔ ملاقات کے دوران آغا علی رضوی نے کہا کہ لینڈ ریفارمز بل کے ذریعے عوام کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے، وہ کسی بھی صورت ناقابلِ قبول ہے۔ گلگت بلتستان کی زمین یہاں کے عوام کی ملکیت ہے، اور کسی بھی نام نہاد قانونی جواز یا اختیارات کے بل پر عوامی اراضی ہتھیانے کی کوشش کی گئی تو ایسی تحریک چلائی جائے گی جسے حکومت سنبھال نہیں سکے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہم ایسی عوام دشمن پالیسیوں کاعوامی مزاحمت کی زبان میں جواب دیں گے۔ عوام کی زمینوں پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہ پہلے دی ہے، نہ آئندہ دیں گے۔ اگر حکومت یا کوئی ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کمزور ہیں، تو وہ بہت بڑی غلط فہمی میں ہے۔
اس موقع پر قائد ملت جعفریہ گلگت بلتستان آغا راحت حسین الحسینی نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ لینڈ ریفارمز بل دراصل گلگت بلتستان کے عوام کو ان کی زمینوں سے محروم کرنے کی ایک سازش ہے۔ ہم اس سازش کو ہر سطح پر بے نقاب کریں گے اور کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر عوام کا صبر ٹوٹ گیا، تو حالات کی ذمہ داری ان قوتوں پر ہو گی جو یہاں کی زمینوں پر قبضے کی ناپاک کوششیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام بیدار ہیں، اور اب مزید کسی ظلم، جبر یا محرومی کو برداشت نہیں کریں گے۔ ایران اسرائیل تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے آغا علی رضوی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام ہر محاذ پر مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں، اور ایران کے دفاع کو دین و ملت کا دفاع سمجھتے ہیں۔ اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کی مزاحمت کو ہم امت مسلمہ کے وقار کی علامت سمجھتے ہیں۔
اس ملاقات میں مجلس وحدت مسلمین کے نائب صدر ڈاکٹر مشتاق حسین حکیمی، جنرل سیکریٹری عارف قنبری، رکن اسمبلی شیخ اکبر علی رجائی، صوبائی ترجمان حاجی غلام عباس، سابق معاون خصوصی الیاس صدیقی اور دیگر عہدیداران بھی شریک تھے۔ اس موقع پر آغا راحت حسین الحسینی نے آغا علی رضوی کو صوبائی صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی، ان کی آمد پر خوش آمدید کہا اور ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے حق میں خصوصی دعا کی۔ آخر میں دونوں رہنماؤں نے مشترکہ طور پر کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق، زمین، شناخت اور خودداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ ہم ہر سازش کو متحد ہو کر ناکام بنائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آغا راحت حسین الحسینی گلگت بلتستان کے عوام لینڈ ریفارمز بل آغا علی رضوی نے کی زمینوں کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔