گلگت میں شیعہ سنی عوام کی یکجہتی ایران ریلی
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
اسلام ٹائمز: گھڑی باغ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے رہنما محمد جہانزیب، ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی ترجمان غلام عباس اور معروف عالم دین سید ذیشان الحسینی نے کہا کہ اسرائیل نے صرف ایران پر نہیں پورے عالم اسلام پر حملہ کیا ہے۔ ایران کا دفاع کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: لیاقت علی انجم
اسرائیل کی ایران پر جارحیت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے کیخلاف گلگت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ تحریک بیداری کے زیر اہتمام نکالی گئی ریلی میں اہلسنت عمائدین اور اکابرین بھی شریک ہوئے۔ مرکزی جامع مسجد سے گھڑی باغ تک نکالی گئی ریلی میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی، اس موقع پر امریکہ اور اسرائیل کیخلاف فلک شگاف نعرے بھی لگائے گئے۔ گھڑی باغ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی گلگت بلتستان کے رہنما محمد جہانزیب، ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی ترجمان غلام عباس اور معروف عالم دین سید ذیشان الحسینی نے کہا کہ اسرائیل نے صرف ایران پر نہیں پورے عالم اسلام پر حملہ کیا ہے۔ ایران کا دفاع کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اگر آج ہم نے سستی دکھائی اور خدانخواستہ ایران کو کچھ ہوا گیا تو مکہ مدینہ اور پاکستان بھی نہیں بچے گا۔ یکجہتی ایران ریلی میں اہلسنت عوام کی بھی کثیر تعداد شریک تھی۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔