جارحیت روک دی جائے تو ایران سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے تیار ہے: عباس عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایک بار جارحیت بند ہو جائے تو اس کے بعد ایران ایک بار پھر مسئلے کے حل کے لیے سفارتکاری کو موقع دینے کے لیے تیار ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق صحافیوں سے گفتگو کے دوران عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جارحیت کرنے والے کا سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے پر احتساب ہونا چاہئے، ایران کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس پر حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
عباس عراقچی نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران اپنے دفاع کے جائز حق کا استعمال کرتا رہے گا، میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ایران کی دفاعی صلاحیتوں پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔
اس سے قبل ملاقات میں شریک فرانس کے وزیرِ خارجہ ژان نوئل بارو نے میڈیا کو بتایا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ عسکری طور پر ایران کے جوہری مسئلے کا کوئی دیرپا حل نکل سکتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ ایران بشمول امریکہ سب کے ساتھ مذاکرات پر راضی ہوگا تاکہ بات چیت کے ذریعے کسی معاہدے پر پہنچا جائے۔
جرمنی کے وزیرِ خارجہ جوہان وڈیفول نے بھی کہا کہ ان کا مقصد ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے اور مذاکرات میں پیش رفت ہو سکے۔
یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کلاس کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کسی کے لیے بھی فائدے مند نہیں اور اسی لیے ہمیں گفتگو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی کا کہنا تھا کہ ہم نے واضح کر دیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا، ساتھی وزرا خارجہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے گفتگو کو جاری رکھنا چاہتے ہیں، ہم ایران سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ بات چیت جاری رکھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عباس عراقچی کہنا تھا کہ کہ ایران کے لیے
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔