Jasarat News:
2026-06-03@07:50:37 GMT

بالادست کون؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یہ عجیب تبدیلی آئی ہے کہ آج جب بھی کوئی آواز اُٹھائے کہ ووٹ کو عزت دو، تو جواب میں نواز شریف بالکل خاموش، جب بھی کوئی یہ بات اٹھائے کہ سویلین بالادستی تو پھر بھی نواز شریف خاموش، کارگل میں کیا ہوا تھا؟ ابھی ماضی قریب کی بات ہے کہ نواز شریف پرویز مشرف کو برطرف کرکے مقدمہ بھی چلانا چاہتے تھے۔ پرویز مشرف پر آرٹیکل سکس کا مقدمہ بھی چلا مگر ایک روز کیا ہوا؟ کہ کوئی انہیں عدالت میں لاتے لاتے اسپتال لے گیا اور جج عدالت میں بیٹھے انتظار کرتے رہے۔ تب عدالت کو ٹی وی چینل کے ٹکرز سے پتا چلا کہ پرویز مشرف ’’ملزم‘‘ راستے ہی میں رُخ موڑ کر اسپتال پہنچا دیے گئے ہیں۔ عدالت نے کچھ وقت تک انتظار کیا اور پھر سماعت ملتوی ہوگئی۔ اب بھی فیلڈ مارشل کی امریکی صدر سے ملاقات ہوئی ہے تو ہمیں اب یقین ہوگیا ہے کہ نواز شریف کے نعرے، دعوے اب کہیں نظر نہیں آرہے۔
بہت پرانی بات ہے راولپنڈی میں شیخ رشید احمد کو اپنی سیاست کے لیے سعود ساحر جیسے دماغوں کی ضرور ہوا کرتی تھی، دائیں بازو کے یہ صحافی بھی شیخ رشید احمد کے لیے لڑتے مرتے تڑپتے تھے۔ 2002 کے انتخابات کے بعد جب شیخ رشید احمد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات بنائے گئے تو قبلہ سعود ساحر کے ساتھ ان کے چیمبر میں گیا کہ وزیر اطلاعات سے ملاقات کی جائے۔ یہ ملاقات ایسی تھی کہ دروازے سے نکلتے ہی قبلہ شاہ جی نے کہا میاں صاحب! اب شیخ رشید کو ہماری ضرورت نہیں رہی۔ قبلہ شاہ جی کی بات سو فی صد درست تھی اس لیے کہ اب شیخ رشید مسلم لیگ(ن) کی گردن پر پائوں رکھ کر چاند کے انتخابی نشان پر اسمبلی میں پہنچے تھے۔
2002 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے کل 70 امیدوار تھے جو چاند کے انتخابی نشان پر قومی اسمبلی میںپہنچے۔ اس وقت بھی راولپنڈی میں ایک عجیب سماں تھا۔ شیخ رشید احمد نے پوری انتخابی مہم میں دو نام تاڑ رکھے تھے ایک نام تھا بگا اور دوسرا تھا گنگو تیلی۔ یہ کون تھے؟ اور راولپنڈی مسلم لیگ(ن) ہر ایک راہنماء سے سوال ہے کہ 2002 اس وقت مسلم لیگ(ن) کے ہم خیال صحافیوں میں کون شیر کے ساتھ اور کون چاند کے ساتھ کھڑا تھا؟ یہ انتخابی مہم بہت نرالی تھی۔ جو امیدوار میدان میں تھے ان میں چاند والوں کو اپنی کامیابی کا یقین تھا۔ جب انتخابات میں کامیابی کا یقین کوئی اور دلائے تو پھر کوئی پاگل ہی ہوگا جو سویلین بالدستی کی بات کرے گا اور نعرہ لگائے گا۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اس وقت شیخ رشید احمد نے اپنی مرضی کی وزارت لی اور اس وقت تک وزارت کے مزے لیے جب اقتدار کی مدت نصف ہوچکی تھی بعد میں شیخ رشید احمد کو میر ظفر اللہ جمالی کی جگہ وزیر اعظم شوکت عزیز سے واسطہ پڑا اور انہیں محمد علی درانی کی دوستی میسر آگئی حالانکہ شیخ رشید احمد نے پرویز مشرف کے دفاع میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی تھی مگر ایوان وزیر اعظم میں جب محمد علی درانی کی انٹری ہوئی تو تبدیلی آگئی۔ بس یہیں سے شیخ رشید احمد وزارت اطلاعات سے نکلے تو وزارت ریلوے میں آگئے۔ لوگ سوچ رہے تھے کہ اب اخبارات میں ان کی ہر روز فرنٹ پیج پر کہاں تصویر چھپے گی؟ لیکن شیخ رشید احمد جنہیں دائیں بازو کے صحافیوں نے گر سکھائے ہوئے تھے انہوں نے پلٹا کھایا اور راولپنڈی سے ایک نئی ٹرین کا اعلان کیا اور افتتاح بھی بیگم زرین مشرف، پرویز مشرف کی والدہ کے ہاتھوں کرایا، یوں حکومت میں ایک گیم شروع ہوئی۔ ایک جانب شیخ رشید احمد جو پرویز مشرف کے قریب رہنے کی تگ و دو اور دوسری جانب وزیر اعظم شوکت عزیز اور ان کے وزیر اطلاعات، محمد علی درانی لیکن ان دونوں میں سے کسی نے نعرہ نہیں لگایا کہ ووٹ کو عزت دو یا دونوں میں سے کسی نے سویلین بالادستی کے فارمولے نہیں اپنائے۔ آج بھی شیخ رشید کسی اچھے وقت کے انتظار میں ہیں لیکن مشکل میں ہیں کہ سویلین بالادستی کی طرف جھکیں یا اڈیالہ میں پابند سلاسل عمران خان کو خوش رکھیں۔ بہر حال وہ خاموش رہ کر بہت کچھ حاصل کر رہے ہیں کہ بقول اکبر الہ آبادی
مے بھی ہوٹل میں پیو، چندہ بھی دو مسجد میں
شیخ بھی خوش رہیں، شیطان بھی ناراض نہ ہو
چلیے یہ تو شیخ رشید ہیں جیسے تیسے گزارا کر ہی لیں گے۔ کر بھی رہے ہیں مگر یہ ووٹ کو عزت دو اور سویلین بالادستی کے نعرے اور دعوے کہاں جائیں گے؟ پرویز مشرف کو تو برطرف کردیا تھا آرٹیکل سکس کا مقدمہ بھی بنا دیا لیکن واشنگٹن میں جو اہم ترین ملاقات ہوئی ہے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور صدر ٹرمپ ملے ہیں۔ ظہرانہ دیا گیا ہے۔ فیلڈ مارشل کی تعریفیں کی گئی ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف کہاں ہیں؟ عوام کے منتخب نمائندے، آئین پاکستان تو یہی کہتا ہے کہ اس ملک کا نظام عوام چلائیں گے اور اس کے لیے ووٹ کے ذریعے عوام اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے یہی منتخب نمائندے فیصلہ کریں گے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟ قومی اسمبلی میں اور سینیٹ میں اس وقت بحث ہورہی ہے‘ موضوع ہے بجٹ… سب مست ہیں۔ ترقیاتی اسکیموں میں خوش ہیں، گلیاں بن رہی ہیں، حلقے میں پیسہ ملے گا نالیاں بنیں گی۔ کہیں اسکول بھی بن جائیں گے، اسپتال بھی ہوسکتا ہے کہ مرمت ہو ہی جائیں مگر صدر ٹرمپ جو اس وقت جمہوریت کی مرمت کر رہا ہے اس کا حساب کتاب کون لے گا؟ کیا نواز شریف حساب لیں گے؟ شہباز شریف حساب لیں گے؟ کس پارلیمانی پارٹی میں اتنی جان ہے اور ہمت ہے کہ وہ اٹھے اور پوچھے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ ٹرمپ صاحب کیوں جمہوریت کی کمر دوہری کر رہے ہیں۔ دنیا کے سیاسی نقشے پر اب جمہوریت ہے کہاں؟ شام میں وہ حکمران ہیں جن کے سروں کی قیمت امریکا نے لگائی ہوئی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں بحث جاری ہے کہ کب اور کون سب سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کرے گا؟ پوری مسلم دنیا ایک جانب کنارے پر کھڑی ایران اسرائیل جنگ دیکھ رہی ہے اور انتظار کس بات کا ہے؟ اس سوال کا جواب مسلم دنیا سے ہی پوچھ لیا جائے تو بہتر ہوگا سات اکتوبر کے بعد مشرق وسطیٰ کے لیے جو نقشہ سوچا گیا ہے۔ اس کا جواب کسی کے پاس ہو اور ہوسکتا ہے کہ یہ بھی منتظر ہوں کہ یہ خطہ بنائے گئے نئے قواعد کے مطابق کب اپنی اصلی حالت میں پہنچے گا۔ مگر ہمیں تو اس سب کے باوجود ووٹ کو عزت دو اور سویلین بالادستی کے دعویداروں کے منہ سے جواب چاہیے کہ اب ان کی پٹاری میں نئے نعرے کون سے ہیں؟ ہوسکتا ہے نواز شریف اور شہباز شریف اب بھی کسی تبدیلی کے منتظر ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ووٹ کو عزت دو پرویز مشرف نواز شریف کے لیے

پڑھیں:

بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آنے والے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

اس موقع پر کاروباری طبقے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت ایسی صنعتوں کے فروغ کیلیے کوشاں ہے، جن سے ملکی پیداوار بڑھے، برآمدات میں اضافہ اور ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں سے ملکی معیشت مستحکم اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، یہی ہماری معاشی پالیسی کا محور ہے جب کہ غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ صنعت، زراعت اور آئی ٹی شعبوں میں ترقی سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ نوجوانوں کیلیے تکنیکی اور فنی تربیت کے پروگرام شروع کیے ہیں، اس پروگرام سے بھی روزگار ملنے میں آسانی ہوگی اور قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا جا سکے گا۔

انہوں نے مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری ہی معاشی ترقی کی ضمانت ہے اور پاکستانی معیشت سے متعلق پالیسی سازی میں مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

اس موقع پر کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی انتظام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے اقدامات کا خیر مقدم کیا اور ساتھ ہی ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن کو سراہا۔

مزید پڑھیں۔جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم