ایران ہی فاتح ہے اس جنگ میں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آج کل اسرائیل اور ایران کے درمیان جو جھڑپیں ہورہی ہیں ان کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اصل فاتح ایران ہی ہے۔ یہ اس لیے کہ جو Victim Card اسرائیلی پچھلی 7 دہائیوں سے کھیل رہا ہے پچھلے چار دنوں میں وہ ایران نے کھیل کر دنیا بھر کے لوگوں کی ہمدردی حاصل کرلی ہے۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ عام انسان کی ہمدردی جس ملک یا سائڈ کے ساتھ ہوگی وہی فاتح ہوگا۔ اس کے علاوہ ایران نے توقع سے بڑھ کر اسرائیل کو جواب دیا ہے اور مسلسل دے رہا ہے۔ اسی وجہ سے اس وقت امریکا کی یہی کوشش ہے کہ وہ اس جھگڑے میں ملوث نہ ہو۔ کیونکہ ایران ان کی توقعات سے زیادہ نکلا۔ اسرائیل کو اپنے iron dome (دفاعی نظام) پر جتنا ناز تھا وہ سب چکنا چور ہوگیا، اب مسئلہ یہ ہے کہ ایران ایک کافی وسیع اور عریض ملک ہے جس کی وجہ سے ایران کی 90 ملین آبادی آرام سے نقل مکانی کرچکی ہے۔ چونکہ ایران کا انفرا اسٹرکچر بھی اچھا ہے، سڑکیں موجود ہیں تو یہ مرحلہ آسانی سے طے ہوگیا۔ مگر اسرائیل اتنا خوش قسمت نہیں، انتہائی چھوٹا سا ملک ہے کہ اسرائیل کی ایک سرحد سے دوسری سرحد تک کا سفر ایک اندازے کے مطابق صرف دو ڈھائی گھنٹوں میں طے کیا جاسکتا ہے۔ یہاں آبادی صرف 9 ملین ہے۔ (یعنی آبادی کراچی سے بھی کم ہے) تمام بارڈر بند ہیں اور اسرائیلی عوام ملک سے باہر جا بھی نہیں سکتی۔ اب اسرائیلوں کو اندازہ ہورہا ہے کہ کس طرح فلسطینیوں نے اتنے سال ایک بغیر چھت کی جیل میں گزارے ہیں۔ اور مزے کی بات یہ کہ خود اسرائیلی سربراہ بھاگ کے یونان چلا گیا ہے۔
اسرائیل اس وقت ایک شدید کشمکش کا شکار ہے ایک طرف تو یہ دنیا جہاں کی ہمدردی بٹورنے کے لیے ایرانی مظالم کی تشہیر کررہا ہے مگر اس تشہیر سے خود اس کے اپنے عوام کے حوصلے پست ہورہے ہیں اور کسی بھی جنگی حالات میں یہ سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔ قارئین کو شاید یاد ہو جب عراق پہ امریکا نے حملہ کیا تھا تو عراقی ٹی وی میں آخر وقت تک یہی نشریات جاری تھیں کہ عراق جنگ جیت رہا ہے۔ جبکہ امریکی بغداد تک جاچکے تھے۔
نیتن یاہو جس کو اقتدار کی بھوک ہے بری طرح حکومت میں رہنے کے لیے ہر طرح کے جتن کررہا ہے وہ خود کو war prime minister دکھانا چاہتا ہے مگر اسرائیلی عوام بھی اتنے بے وقوف نہیں۔ وہ بھی یہ سیاست سمجھتے ہیں۔ اس وقت ایران ہی صحیح معنوں میں فاتح اس لیے بھی ہے کہ بنگلا دیش سے لے کر مراکش تک ہر مسلمان ایران کے لیے دعا گو ہے۔ خلیجی بادشاہتوں، اردنی سادات حکومت اور مراکز کے بادشاہ سب فکر مند ہیں اور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ بغاوت کا کافی اندیشہ ہے۔ بحرین جہاں پہلے ہی 1.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔