ایران ہی فاتح ہے اس جنگ میں
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آج کل اسرائیل اور ایران کے درمیان جو جھڑپیں ہورہی ہیں ان کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اصل فاتح ایران ہی ہے۔ یہ اس لیے کہ جو Victim Card اسرائیلی پچھلی 7 دہائیوں سے کھیل رہا ہے پچھلے چار دنوں میں وہ ایران نے کھیل کر دنیا بھر کے لوگوں کی ہمدردی حاصل کرلی ہے۔ یہ بہت اہم ہے کیونکہ عام انسان کی ہمدردی جس ملک یا سائڈ کے ساتھ ہوگی وہی فاتح ہوگا۔ اس کے علاوہ ایران نے توقع سے بڑھ کر اسرائیل کو جواب دیا ہے اور مسلسل دے رہا ہے۔ اسی وجہ سے اس وقت امریکا کی یہی کوشش ہے کہ وہ اس جھگڑے میں ملوث نہ ہو۔ کیونکہ ایران ان کی توقعات سے زیادہ نکلا۔ اسرائیل کو اپنے iron dome (دفاعی نظام) پر جتنا ناز تھا وہ سب چکنا چور ہوگیا، اب مسئلہ یہ ہے کہ ایران ایک کافی وسیع اور عریض ملک ہے جس کی وجہ سے ایران کی 90 ملین آبادی آرام سے نقل مکانی کرچکی ہے۔ چونکہ ایران کا انفرا اسٹرکچر بھی اچھا ہے، سڑکیں موجود ہیں تو یہ مرحلہ آسانی سے طے ہوگیا۔ مگر اسرائیل اتنا خوش قسمت نہیں، انتہائی چھوٹا سا ملک ہے کہ اسرائیل کی ایک سرحد سے دوسری سرحد تک کا سفر ایک اندازے کے مطابق صرف دو ڈھائی گھنٹوں میں طے کیا جاسکتا ہے۔ یہاں آبادی صرف 9 ملین ہے۔ (یعنی آبادی کراچی سے بھی کم ہے) تمام بارڈر بند ہیں اور اسرائیلی عوام ملک سے باہر جا بھی نہیں سکتی۔ اب اسرائیلوں کو اندازہ ہورہا ہے کہ کس طرح فلسطینیوں نے اتنے سال ایک بغیر چھت کی جیل میں گزارے ہیں۔ اور مزے کی بات یہ کہ خود اسرائیلی سربراہ بھاگ کے یونان چلا گیا ہے۔
اسرائیل اس وقت ایک شدید کشمکش کا شکار ہے ایک طرف تو یہ دنیا جہاں کی ہمدردی بٹورنے کے لیے ایرانی مظالم کی تشہیر کررہا ہے مگر اس تشہیر سے خود اس کے اپنے عوام کے حوصلے پست ہورہے ہیں اور کسی بھی جنگی حالات میں یہ سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔ قارئین کو شاید یاد ہو جب عراق پہ امریکا نے حملہ کیا تھا تو عراقی ٹی وی میں آخر وقت تک یہی نشریات جاری تھیں کہ عراق جنگ جیت رہا ہے۔ جبکہ امریکی بغداد تک جاچکے تھے۔
نیتن یاہو جس کو اقتدار کی بھوک ہے بری طرح حکومت میں رہنے کے لیے ہر طرح کے جتن کررہا ہے وہ خود کو war prime minister دکھانا چاہتا ہے مگر اسرائیلی عوام بھی اتنے بے وقوف نہیں۔ وہ بھی یہ سیاست سمجھتے ہیں۔ اس وقت ایران ہی صحیح معنوں میں فاتح اس لیے بھی ہے کہ بنگلا دیش سے لے کر مراکش تک ہر مسلمان ایران کے لیے دعا گو ہے۔ خلیجی بادشاہتوں، اردنی سادات حکومت اور مراکز کے بادشاہ سب فکر مند ہیں اور خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ بغاوت کا کافی اندیشہ ہے۔ بحرین جہاں پہلے ہی 1.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔