حکومت کی کوششیں رنگ لے آئیں، توانائی کے شعبے میں گردشی قرض کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے 18 بینکوں کے کنسورشیم کے ساتھ 1275 ارب روپے کے قرض کے تاریخی معاہدے پر دستخط ہو گئے ہیں۔

وزارت توانائی کے مطابق اس معاہدے کا مقصد پرانے مہنگے قرضوں کی جگہ نیا پیکیج کم شرحِ سود پر حاصل کرنا ہے، جس سے سرکلر ڈیٹ پر دباؤ نمایاں حد تک کم ہو جائے گا۔ نئی فنانسنگ کے لیے شرح منافع 3 ماہ کا کائبور مائنس 0.

9 فیصد مقرر کی گئی ہے جبکہ صارفین پر کوئی نیا سرچارج عائد نہیں کیا جائے گا۔

A Landmark Breakthrough in Pakistan’s Energy (Power) Sector:

Teamwork Delivers Results – Resolve Chronic CD
– In what is being hailed as a landmark financial and structural breakthrough, Pakistan has tackled the longstanding issue of Circular Debt (CD) in the country’s power…

— Khurram Schehzad (@kschehzad) June 21, 2025

معاہدے کے تحت 683 ارب روپے پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 592 ارب روپے پرانے بقایاجات کی مد میں آزاد پاور پروڈیوسرز (IPPs) کو ادا کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: پاور سیکٹر گردشی قرضہ 9.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کے باعث اصلاحات ناگزیر ہیں، اویس لغاری

مشیر خزانہ خرم شہزاد نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ پیشرفت وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر قائم انرجی ٹاسک فورس کی مسلسل محنت اور بینکنگ سیکٹر کے ساتھ قریبی مشاورت کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے توانائی کے شعبے میں تاریخی اصلاحات متعارف کروائی ہیں، اور گردشی قرض کی دلدل سے نکلنے کے لیے دیرپا اور عملی حل پیش کیا ہے۔ معاہدے کی شرائط کے مطابق موجودہ ڈیٹ سروسنگ سرچارج 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ کے ذریعے اگلے 5 سے 6 سال میں مکمل ادائیگی ممکن بنائی جائے گی۔

اس معاہدے میں مشیر نجکاری محمد علی نے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ لیفٹیننٹ جنرل ظفر اقبال، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، اور سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے معاہدے کی نگرانی کی۔ پاکستان بینکس ایسوسی ایشن نے 18 بینکوں کے ساتھ کئی ماہ جاری رہنے والی مشاورت میں قیادت کا کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں یہ قومی اہمیت کا حامل مالی معاہدہ ممکن ہو سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان توانائی، بجلی گردشی قرض مشیر خزانہ خرم شہزاد وزارت توانائی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان توانائی بجلی وزارت توانائی ارب روپے کے لیے

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ