نان چھانگ(سی این پی)سٹریٹجک کمیونیکیشن فورم 2025 حال ہی میں ’’ترقی کے مشترکہ مستقبل کے لئے تہذیبوں کے درمیان تبادلے اور باہم سیکھنے کے عمل‘‘ کے عنوان سے چین کے صوبہ جیانگ شی کے شہر شانگ راؤ میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں چینی اور بین الاقوامی مہمانوں نے شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر تہذیبی مکالمے اور پائیدار ترقی پر بات چیت کی۔ فورم کے دوران پاکستان کے سفارتی مندوبین نے شانگ راؤ اکنامک اینڈ ٹیکنالوجیکل ڈویلپمنٹ زون میں واقع جِنکو سولر کے انٹیلیجنٹ کارخانے کا دورہ کیا اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی دنیا کا عملی مشاہدہ کیا۔

کارخانے میں داخل ہوتے ہی نمائندے اس کی اعلیٰ درجے کی خودکاری سے بے حد متاثر ہوئے۔ روبوٹک بازو انتہائی نازک کام انجام دے رہے تھے جبکہ انٹیلیجنٹ انتظامی نظام پورے پیداواری عمل کی حقیقی وقت میں نگرانی کر رہے تھے۔ کرسٹل لائن سلیکون جیسے خام مال کو صاف توانائی کے بنیادی اجزا میں موثر انداز میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔ پاکستان کے سفارت خانے میں تعینات قونصلر محمد عمر نے کہا کہ یہ واقعی حیران کن ہے، ہر چیز انتہائی جدید اور خودکار ہے۔ فوٹو وولٹک ٹیکنالوجی کے عالمی رہنما کا ملکیتی یہ انٹیلیجنٹ کارخانہ ٹیکنالوجی کی جدت پر مبنی ترقی یافتہ پیداواری لائنوں، سخت ماحولیاتی معیار اور نمایاں اختراعی کامیابیوں کی بدولت مندوبین کی نظر میں قابل تجدید توانائی کے شعبے میں چمکتا ہوا موتی بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے میں انہیں چین کی جدید صنعتی صلاحیتوں کے بارے میں ایک گہرا فہم حاصل ہوا اور سیکھنے کا انتہائی قیمتی موقع ملا۔


توانائی کے شعبے میں تعاون طویل عرصے سے چین اور پاکستان کے تعلقات کا اہم پہلو رہا ہے۔ گزشتہ سال پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دورہ چین کے دوران جِنکو سولر نے قابل تجدید توانائی کے نمائندے کے طور پر چین-پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کے اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستانی وفد کے ساتھ شمسی توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مسلسل 5 سال سے دنیا میں سب سے زیادہ فوٹو وولٹک ماڈیول برآمد کرنے والی بڑی صنعتی کمپنی کے طور پر جِنکو سولر پاکستان کو ایشیا بحرالکاہل خطے میں انتہائی اہم منڈی سمجھتی ہے۔ جِنکو سولر کے ایشیا بحرالکاہل خطے کے جنرل منیجر لی یان نے کہا کہ پاکستان کی شمسی توانائی کی منڈی حالیہ برسوں میں تیزی سے وسیع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ مل کر پائیدار توانائی کے حل تلاش کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔

پاکستان کے پاس شمسی توانائی پیدا کرنے اور توانائی ذخیرہ کرنے کے لئے منفرد صلاحیتیں اور فوری ضرورتیں موجود ہیں۔ ملک شمسی وسائل سے مالامال ہے بالخصوص سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں جہاں سالانہ 3 ہزار گھنٹے سے زیادہ سورج کی روشنی دستیاب ہوتی ہے۔ تاہم توانائی کی دائمی قلت طویل عرصے سے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔
چائنہ انسٹی ٹیوٹس آف کنٹیمپریری انٹرنیشنل ریلیشنزمیں انسٹی ٹیوٹ فار ساؤتھ ایشین سٹڈیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر وانگ شی دا نے کہا کہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے دائرہ کار کے تحت چین نے بجلی کی کمی پر قابو پانے کے لئے توانائی کے کئی منصوبے تعمیر کرنے میں پاکستان کی معاونت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس تیل، گیس اور وافر کوئلے جیسے روایتی توانائی کے ذرائع موجود نہیں ہیں اور توانائی کی درآمد سے قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ اس لئے پاکستان بھرپور طور پر ماحول دوست توانائی کی تیاری میں مصروف ہے اور اس نے اپنی مجموعی بجلی میں صاف توانائی کے تناسب کو بڑھانے کے لئے کئی ترقیاتی منصوبے ترتیب دئیے ہیں۔
وانگ شی دا نے مزید تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران سولر پینلز، متعلقہ اجزاء اور توانائی ذخیرہ کرنے کی سہولیات پر مشتمل چین کی فوٹو وولٹک صنعت مقدار، معیار، ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی اور لاگت کے لحاظ سے دنیا میں سب سے آگے آ چکی ہے۔ اس تناظر میں چین اور پاکستان کے درمیان شمسی توانائی کے شعبے میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ سی پیک کے دائرہ کار کے تحت چینی کمپنیوں نے پہلے ہی پاکستان میں متعدد فوٹو وولٹک منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے اور ان پر کام کر رہی ہیں۔ وانگ شی دا کے مطابق اطلاعات ہیں کہ پاکستان درآمدی فوٹو وولٹک مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جس سے مارکیٹ کے نکتہ نظر سے چینی کمپنیاں کچھ پیداواری مراکز پاکستان منتقل کرسکتی ہیں۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024 کے اختتام تک پاکستان میں شمسی توانائی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 4.

1 گیگا واٹ تک پہنچ چکی تھی۔ جون 2023 کے اختتام پر یہ صلاحیت 1.3 گیگا واٹ تھی یعنی مختصر وقت میں غیر معمولی اضافے سے شمسی توانائی کی ڈاؤن سٹریم منڈی میں فوٹو وولٹک مصنوعات کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔جِنکو کے انٹیلیجنٹ کارخانے میں پاکستانی سفارتی مندوبین کے مشاہدات اور تجربات پاکستان کے توانائی منتقلی کے اہداف سے گہری مطابقت رکھتے ہیں۔ پاکستان کے وافر شمسی وسائل اور صاف توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر چین کی ترقی یافتہ فوٹو وولٹک ٹیکنالوجی اور صنعتی صلاحیت دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے وسیع امکانات پیدا کرتی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دائرہ کار کے تحت توانائی کے شعبے میں تعاون مزید گہرا ہونے سے یہ باہمی فائدہ مند شراکت داری پاکستان کے توانائی ڈھانچے کی بہتری میں نئی تیزی لائے گی اور ماحول دوست ترقی کے راستے پر چین-پاکستان دوستی کا نیا باب رقم کرے گی۔

اشتہار

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: توانائی کے شعبے میں تعاون شمسی توانائی چین پاکستان پاکستان کے توانائی کی ج نکو سولر نے کہا کہ کے لئے

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار