Daily Mumtaz:
2026-06-03@03:15:10 GMT

امریش پوری؛ وہ ولن جسے دنیا نے ہیرو مانا

اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT

امریش پوری؛ وہ ولن جسے دنیا نے ہیرو مانا

بالی وڈ میں جب بھی ولن کے کرداروں کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں امریش پوری کا نام سرفہرست ہوگا لیکن امریش پوری نے کئی فلموں میں مثبت کردار بھی ادا کیے جیسے ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ میں ایک شفیق باپ کا کردار نبھایا۔

اگرچہ انہیں ہم سے جُدا ہوئے 20 سال گزر چکے ہیں لیکن آج بھی ان کا نام زندہ ہے اور دنیا بھر میں مداح آج 22 جون کو ان کی سالگرہ منا رہے ہیں۔

امریش پوری کی گرج دار آواز، کرخت چہرہ، پرجوش انداز اور بےمثال اداکاری نے اُنہیں فلمی دنیا کا ناقابلِ فراموش کردار بنا دیا۔

’موگیمبو خوش ہوا ‘ جیسے ڈائیلاگ آج بھی عوام کی زبان پر ہیں اور یہ صرف ایک کردار نہیں ایک علامت بن چکا ہے ۔

امریش پوری نہ صرف اپنی اداکاری بلکہ اپنے اخلاق، عاجزی اور سادگی کی وجہ سے بھی دلوں میں گھر کر گئے۔

وہ ان چند منفی کردار ادا کرنے والوں میں سے تھے جنہیں عوام نے نفرت کرنے کے بجائے سراہا، چاہا اور ہمیشہ یاد رکھا۔

ابتدائی زندگی اور جدوجہد

امریش پوری 22 جون 1932 کو انبالہ، پنجاب میں پیدا ہوئے، ان کا تعلق ایک فنکار گھرانے سے تھا ،ان کے بڑے بھائی چمن پوری کیریکٹر آرٹسٹ تھے اور دوسرے بھائی مدن پوری اپنے دور کے معروف ولن مانے جاتے تھے،اگرچہ فلمی پس منظر موجود تھا لیکن امریش پوری کے لیے فلمی سفر آسان نہ تھا۔

کالج سے فارغ ہونے کے بعد وہ بھی ہیرو بننے کا خواب لے کر ممبئی آئے لیکن انہیں مسترد کر دیا گیا۔

اس ناکامی نے انہیں عارضی طور پر فلموں سے دور کر دیا اور انہوں نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی مگر اداکاری کا شوق دل سے کبھی ختم نہ ہوا۔

تھیٹر کا سنگ میل

اداکاری کا اصل جنون انہیں اسٹیج کی طرف لے آیا، یہی وہ دور تھا جب ان کی ملاقات مشہور تھیٹر ڈائریکٹر ستیہ دیو دوبے سے ہوئی۔

انہوں نے امریش پوری میں چھپی صلاحیت کو پہچان لیا اور انہیں اپنے کئی ڈراموں میں کاسٹ کیا، جن میں ’اندھا یگ‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔

تھیٹر نے امریش پوری کو وہ مضبوط بنیاد دی جس پر انہوں نے فلمی دنیا میں اپنا مقام قائم کیا۔

فلمی سفر اور عروج

امریش پوری نے 1971 میں فلم’ ریشما‘ اور’ شیرہ‘ سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا مگر انہیں اصل پہچان 1980 کی دہائی میں ملی۔

1987 میں ریلیز ہونے والی فلم مسٹر انڈیا میں ان کا کردار ’موگیمبو‘ نہ صرف ایک مشہور ولن بنا بلکہ ایک ثقافتی علامت بھی بن گیا۔

ان کی بھاری بھرکم آواز، دراز قامت شخصیت اور دل دہلا دینے والا انداز اُن کے ہر کردار کو جان ڈال دیتا۔

’ شکتی‘،’ دیو‘، ’کرن ارجن‘،’ گھائل‘،’ رام لکھن‘،’ تری دیو‘،’ سوداگر‘،’ ایمان دھرم‘،’ کل یگ‘،’ پردیس‘،’ گھات‘، ’کوئلہ‘،’ دل والے دلہنیا لے جائیں گے ‘جیسی درجنوں فلموں میں اُن کے کردار نے ناظرین کو جھنجھوڑا۔

صرف منفی کردار ہی نہیں، بلکہ ’چاچی ‘420 اور ’مسکراہٹ‘ جیسی فلموں میں ان کی مزاحیہ اداکاری بھی قابلِ تعریف رہی۔

وہ ان چند فنکاروں میں سے تھے جو ہر طرح کے کردار میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

ان کی شخصیت اتنی باوقار تھی کہ ان کے انتقال پر صرف فلمی دنیا نہیں، عام لوگوں نے بھی انہیں ایک نقصان سمجھا۔ 12 جنوری 2005 کو جب ان کا انتقال ہوا تو پوری فلم انڈسٹری سوگ میں ڈوب گئی۔

ان کا جسد خاکی جوہو کے وردان بنگلے میں رکھا گیا، جہاں نصیرالدین شاہ، اوم پوری اور دوسرے فنکار خاموشی سے کھڑے تھے ،ایسے جیسے ان کا کوئی سرپرست چلا گیا ہو۔

امریش پوری نے تقریباً 200 سے زائد فلموں میں کام کیا، جن میں ہندی، پنجابی، تامل، ملیالم، کنڑ اور تیلگو فلمیں شامل تھیں۔

انہیں 1982 کی فلم ’گاندھی ‘ میں برطانوی راج کے کردار کے لیے بھی سراہا گیا، جس میں ان کی اداکاری کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی۔

ہالی وڈ فلم Indiana Jones and the Temple of Doom میں بھی انہوں نے “مولارام” نامی ولن کا کردار نبھایا، جو ان کی شہرت کا عالمی دروازہ تھا۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: امریش پوری فلموں میں انہوں نے کے کردار

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟