محرم الحرام میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے احکامات جاری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
اویس کیانی:محرم الحرام میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کے معاملے پروفاقی وزیرتوانائی اویس لغاری نے ڈسکوز کے چیئرمین/ سی ای اوز کو فوری اقدامات کرنے کے احکامات دے دئیے۔
وفاقی وزیرنے ڈسکوز کے چیئرمین/ سی ای اوز خط لکھ کر مجالس اور جلوسوں کے مقامات پر پیشگی مرمت کے احکامات بھی دے دیئے ہیں۔
اس حوالے سے وفاقی وزیراویس لغاری نے کہاہے کہ محرم الحرام کا مقدس مہینہ قریب آ رہا ہے،اس ماہ میں ملک بھر میں لاکھوں عزاداران مجالس اور جلوسوں میں شرکت کریں گے،رواں سال محرم میں گرمی کی لہروں کے امکانات ہیں اس لیے بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50، پنشن میں 20 فیصد اضافے کی سفارش
وفاقی وزیرپاورنے مزیدکہاکہ مذہبی تقریبات کے دوران عوام کو کسی بھی قسم کی تکلیف سے بچایا جائے،تمام ڈسکوز میں خراب سامان کی فوری مرمت یا تبدیلی کو یقینی بنایا جائے۔
وفاقی وزیرنے ڈسکوز کو ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تشکیل دینے کے بھی احکامات دیتے ہوئے کہاہے کہ یوم عاشورکے موقع پر ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کو ہائی الرٹ پر تعینات کیا جائے محرم الحرام میں مقامی حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے، ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مذہبی تنظیموں کے ساتھ مکمل تعاون کیاجائے.
حکومت نے سولر پینلز پر مجوزہ ٹیکس کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے؛ وزیر خزانہ
وفاقی وزیرنے مزیدکہاکہ صارفین، خصوصاً امام بارگاہوں اور مساجد کو کسی بھی شیڈولڈ مرمت یا ممکنہ لوڈ مینجمنٹ کے بارے میں پیشگی آگاہ کریں،حساس مقامات پر اسٹینڈ بائی جنریٹرز اور یو پی ایس سسٹمز کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے ،کسی بھی غیر متوقع گرڈ مسئلے کی صورت میں بیک اپ بجلی فراہم کی جائے،محرم الحرام کے دوران تکنیکی اور آپریشنل عملے کی 24/7 دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔
وفاقی وزیرنے کہاکہ تمام سطحوں پر مخصوص کنٹرول سنٹرز قائم کیے جائیں اوراس معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی کی گنجائش نہیں ہے ،محرم الحرام کے سلسلے میں اقدامات کی رپورٹ پاور ڈویژن کو بھیجی جائے۔
مون سون سے قبل جاری منصوبے جلد مکمل ، نئی کھدائی نہ کرنے کا حکم
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔