پاک فوج جدید جنگی حکمت عملی کے تحت دشمن کو بھرپور جواب دے رہی ہے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کراچی میں مختلف مذاہب اور سماجی طبقات کے نمائندوں سے خصوصی ملاقات کی، جس میں قومی اتحاد، یکجہتی اور پاکستان کی سلامتی کے موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران مختلف مذہبی اور سماجی حلقوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کا والہانہ خیرمقدم کیا اور اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے پیروکار برابر کے شہری ہیں اور آئینی طور پر مکمل حقوق سے مستفید ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قومی اتحاد صرف برابری، رواداری اور ہم آہنگی کی بنیاد پر قائم رہ سکتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت پر پاکستان میں دہشتگردی کی پشت پناہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج جدید جنگی حکمت عملی کے تحت دشمن کو بھرپور جواب دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان امن کا خواہاں، بھارت کی جانب سے جنگ مسلط کی جاتی ہے تو ہر وقت تیار ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
انہوں نے نسلی یا لسانی نفرت کو جہالت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام پاکستانی برابر ہیں، اور متحد رہنے کی صورت میں کوئی طاقت پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی۔
لیفتیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح کیا کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کر سکتی ہے، کسی فرد یا گروہ کو اس کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
مختلف مذاہب اور سماجی طبقات کے نمائندوں نے اس ملاقات کو انتہائی مثبت اور قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور اس قسم کی نشستوں کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف ڈی جی آئی ایس پی آر
پڑھیں:
ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔