ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے سے قبل تینوں ایٹمی تنصیبات کو خالی کردیا تھا۔

خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے نائب سیاسی سربراہ حسن عبدینی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکی حملوں سے قبل اپنے تینوں ایٹمی مراکز کو حملوں کے پیش نظر خالی کرلیا تھا۔

ایرانی حکام کے مطابق تینوں جوہری تنصیبات کو کچھ عرصہ قبل خالی کر کے منتقل کیا گیا اور امریکی حملوں میں انہیں کوئی زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔

دوسری جانب کہا گیا ہے کہ نشانہ بنائے گئے ایٹمی اثاثوں کے مقامات سے کوئی تباکاری مواد خارج نہٰں ہوا اور اس کی تصدیق عالمی ادارے نے بھی کی ہے۔

ایران نے خود بھی کہا ہے کہ تینوں جوہری مقامات سے کوئی ایسا مواد خارج نہیں ہوا جو تابکاری کا باعث بنے اور امریکی حملے سے ایران کو کوئی دھچکا نہیں پہنچا ہے۔

اُدھر ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے جوہری سائٹس پر حملوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ  امریکا نے فردو، نطنز، اصفہان جوہری سائٹس کونشانہ بنایا اور یہ اقدام عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

امریکا نے ایران کی تینوں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں میں امریکی جہازوں نے حصہ لیا اور ایران کی طرف سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی جبکہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر میں کسی شہری یا فوجی کو نشانہ بھی نہیں بنایا گیا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تنصیبات کو

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام