امریکی حملے سے قبل تینوں ایٹمی تنصیبات کو خالی کرلیا گیا تھا، ایران
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے سے قبل تینوں ایٹمی تنصیبات کو خالی کردیا تھا۔
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے نائب سیاسی سربراہ حسن عبدینی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکی حملوں سے قبل اپنے تینوں ایٹمی مراکز کو حملوں کے پیش نظر خالی کرلیا تھا۔
ایرانی حکام کے مطابق تینوں جوہری تنصیبات کو کچھ عرصہ قبل خالی کر کے منتقل کیا گیا اور امریکی حملوں میں انہیں کوئی زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب کہا گیا ہے کہ نشانہ بنائے گئے ایٹمی اثاثوں کے مقامات سے کوئی تباکاری مواد خارج نہٰں ہوا اور اس کی تصدیق عالمی ادارے نے بھی کی ہے۔
ایران نے خود بھی کہا ہے کہ تینوں جوہری مقامات سے کوئی ایسا مواد خارج نہیں ہوا جو تابکاری کا باعث بنے اور امریکی حملے سے ایران کو کوئی دھچکا نہیں پہنچا ہے۔
اُدھر ایرانی ایٹمی توانائی ادارے نے جوہری سائٹس پر حملوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ امریکا نے فردو، نطنز، اصفہان جوہری سائٹس کونشانہ بنایا اور یہ اقدام عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
امریکا نے ایران کی تینوں جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ان کارروائیوں میں امریکی جہازوں نے حصہ لیا اور ایران کی طرف سے کوئی مزاحمت نہیں کی گئی جبکہ آپریشن مڈنائٹ ہیمر میں کسی شہری یا فوجی کو نشانہ بھی نہیں بنایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تنصیبات کو
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔