Daily Ausaf:
2026-06-03@06:38:17 GMT

خاموش سفارتکاری کا جادو

اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT

یقین کیجیے اس ملک کا اصل مسئلہ نہ مہنگائی ہے نہ لوڈشیڈنگ نہ بیروزگاری اور نہ ہی خارجہ پالیسی کی پیچیدگیاں۔ اصل دکھ یہ ہے کہ ہمارے صاحبِ اختیار فیصلہ کرنے سے گھبراتے ہیں اور جب کوئی صاحبِ ایمان، صاحبِ بصیرت اور صاحبِ جگر سامنے آتا ہے تو پورا نظام جیسے اس سے خائف ہو جاتا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ امریکہ اسی سیاق و سباق میں ایک نکتہ آغاز ہے۔
امریکی صدر کی دعوت پر فیلڈ مارشل امریکہ گئے۔ جاتے ہوئے نہ کوئی بڑا دعوی، نہ شور، نہ واویلا۔ خاموشی سے روانہ ہوئے اور وہاں جا کر پاکستان کا مقدمہ ایسے پیش کیا جیسے کوئی وکیل عدالت میں اپنے بے گناہ موکل کے لیے لڑتا ہے۔ صدر ٹرمپ سے تنہا ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں اسرائیل اور ایران کے بڑھتے ہوئے تنازع پر گفتگو ہوئی۔ واشنگٹن کے باخبر ذرائع کہتے ہیں کہ جنرل صاحب نے بڑے تحمل، تدبر اور وقار کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا۔ انہوں نے امریکہ کو براہ راست جنگ سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔کہنے کو یہ صرف ایک مشورہ تھا لیکن اس مشورے میں ایک قومی غیرت، حکمت اور وہ اندرونی سکون جھلک رہا تھا جو صرف مخلص اور فہم و فراست رکھنے والے سپہ سالار میں ہوتا ہے۔ کہتے ہیں صدر ٹرمپ نے بات سنی اور فیصلہ مخر کر دیا۔ بعض لوگ اس کو محض اتفاق سمجھیں گے لیکن اہلِ دل جانتے ہیں کہ کبھی کبھی دل سے نکلی بات سیدھی دل پر اثر کرتی ہے اور شاید یہی لمحہ تھا جب طاقت کے نشے میں چور واشنگٹن نے پہلی بار کسی پاکستانی آواز کو سنجیدگی سے سنا۔ادھر پاکستان میں روایتی ناقدین اسے صرف فوجی سفارت کاری کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کوئی قوم کا موقف دنیا کے طاقتور ترین ایوانوں تک پہنچاتا ہے، وہ بات کرتا ہے دہشت کے خلاف ہماری قربانیوں کی، وہ یاد دلاتا ہے کہ ہم نے ستر ہزار جانیں دیں، معیشت کو کھوکھلا کیالیکن عالمی امن کے لیے فرنٹ لائن پر کھڑے رہے تو کیا وہ قابلِ داد نہیں؟ کیا ہم اسے محض اس لیے نظر انداز کر دیں کہ وہ وردی میں ہے؟فیلڈ مارشل کی بات میں ایک ٹھہرائو ہے۔ ان کی شخصیت میں وہ جاذبیت ہے جو الفاظ کی محتاج نہیں۔ جو لوگ انہیں قریب سے جانتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہ کم گو ہیں لیکن جب بولتے ہیں تو دلائل کے ساتھ مدلل انداز میں بات کرتے ہیں۔ واشنگٹن میں تھنک ٹینکس، تجزیہ کاروں، ماہرینِ پالیسی اور عالمی میڈیا سے ان کی گفتگو اسی انداز کی تھی۔ پاکستان کے مقف کو پوری دنیا کے سامنے رکھا۔ دہشت گردی کے خلاف ہمارا بیانیہ، ہمارے موقف، ہمارے تحفظات سب کچھ واضح انداز میں بیان کیا۔یہ سب کچھ کسی روایتی سفیر کے بس کی بات نہیں۔ سفارتکاری صرف زبان نہیں کردار کا نام ہے اور جب ایک ایسا شخص بات کرے جس کے چہرے پر صداقت ہو اور جس کے دل میں ملک و ملت کے لیے درد ہو تو اثر خودبخود پیدا ہوتا ہے۔انہوں نے امریکیوں کو بتایا کہ پاکستان آج بھی علاقائی امن میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ہم جنگ نہیں چاہتے ہم استحکام چاہتے ہیں۔ بعض علاقائی عناصر دہشت گردی کو ہائبرڈ وارفیئر کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور پاکستان اس کا نشانہ ہے۔ ان کے الفاظ میں کوئی مصنوعی پن نہ تھا نہ کوئی کاغذی انداز۔
ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بہت کچھ کھو دیا لیکن دنیا نے ہمیں کیا دیا؟ یہ سوال انہوں نے تلخی سے نہیں دکھ سے کیا۔ اور شاید یہی دکھ امریکہ کے پالیسی سازوں کے دل میں جا لگا۔فیلڈ مارشل نے بات صرف سکیورٹی تک محدود نہیں رکھی۔ انہوں نے پاکستان کی ترقیاتی صلاحیتوں پر بھی روشنی ڈالی۔ امریکہ اور دنیا کو بتایا کہ پاکستان میں آئی ٹی، زراعت اور معدنیات کے شعبے میں بے پناہ مواقع ہیں۔ ہمیں صرف شراکت داری، سرمایہ کاری اور اعتماد کی ضرورت ہے۔ ایک ملک جسے دنیا صرف ایک سکیورٹی اسٹیٹ کے طور پر دیکھتی ہے اسے ترقی یافتہ معیشت کے طور پر متعارف کرانے کی جو کوشش فیلڈ مارشل نے کی وہ بے مثال ہے۔
دیرینہ پاک امریکہ تعلقات کا ذکر آیا تو انہوں نے جذبات سے خالی مگر حقیقت پر مبنی گفتگو کی۔ کہا کہ ہمیں ماضی سے سیکھنا چاہیے لیکن مستقبل کی طرف دیکھنا زیادہ ضروری ہے۔ اگر ہم بار بار ایک جیسے راستے پر چل کر کچھ حاصل نہیں کر پائے تو شاید راستہ بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔
واشنگٹن میں ان کی بات سنی گئی۔ کھلے دل سے سنی گئی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ وہی واشنگٹن ہے جہاں پاکستانی قیادت کو اکثر نظرانداز کیا جاتا رہا ہے یا رسمی ملاقاتوں سے ٹرخایا جاتا رہا ہے۔ لیکن اس بار ایک تبدیلی نظر آئی۔ ایک وقار، ایک سنجیدگی اور ایک اعتبار۔جنرل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد وائٹ ہائوس کی ترجمان نے بھی کہا ہے کہ صدر آئندہ دو ہفتوں میں ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔ کسی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ اس سوچ کے پیچھے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی گفتگو کا کتنا اثر ہے لیکن جو بات دل پر اتر جائے وہ تحریر کی محتاج نہیں ہوتی۔پھر یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر ہماری سیاسی قیادت میں بھی یہی تدبر، یہی شائستگی، یہی اخلاص آ جائے، تو پاکستان کتنی جلدی اپنی منزل پا لے۔ مگر افسوس یہاں تو ہر بات کو ذاتی مفاد، جماعتی مفاد اور وقتی بیانیے کی نظر کر دیا جاتا ہے۔
یاد رکھیے قومیں صرف بجٹ اور پالیسیاں بنا کر ترقی نہیں کرتیں بلکہ کردار، وقار اور ویژن سے آگے بڑھتی ہیں۔ فیلڈ مارشل نے اس دورے سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے پاس اب بھی وہ قیادت موجود ہے جو وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتی ہے اور جسے سننے پر دنیا مجبور ہو جاتی ہے۔مسئلہ قیادت کا نہیں مسئلہ نظریے کا ہے۔ جب تک ہمارا ہر ادارہ، ہر نظام، ہر فرد اپنی حدود میں رہ کر دیانت داری سے اپنا کردار ادا نہیں کرتا تب تک کوئی فیلڈ مارشل، کوئی وزیراعظم، کوئی صدر اس ملک کو نہیں بچا سکتا۔ ہمارے ہاں جو شخص جتنا مخلص ہوتا ہے، اتنا ہی تنقید کا نشانہ بنتا ہے۔ جو جتنا خاموش ہو اسے اتنا ہی کمزور سمجھا جاتا ہے۔لیکن فیلڈ مارشل کی خاموشی کمزوری نہیں بلکہ تدبر کا اظہار ہے۔ وہ ہر وقت بولنے کے قائل نہیں۔ ان کی گفتگو میں توازن ہے جسے سن کر مخالف بھی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات کی نفی کرتے ہیں اپنے ملک کی بات کرتے ہیں۔ ان کا انداز عاجزی کا ہے، خودنمائی کا نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ آج کا پاکستان ایک چوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف اندھی سیاست دوسری طرف معاشی زوال تیسری طرف اداروں کی باہمی چپقلش اور چوتھی طرف ایک خاموش محبِ وطن قیادت جو امید کی کرن ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ ہم کس طرف جانا چاہتے ہیں؟آخر میں بات وہی ہے جو بار بار دل میں گونجتی ہے ۔
یہ ملک بنایا گیا تھا لا الہ الا اللہ کے نام پر۔ جب تک قیادت اس روح کو سمجھے گی تب فیصلے درست ہوں گے، راستے صاف ہوں گے، اور منزل قریب ہو گی۔ جو حکمت، صبر، جرات اور اخلاص اس ایک دورے میں دکھائی دیا وہی اگر ہماری سیاست، معیشت اور سماج میں اتر آئے تو پاکستان صرف جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نظریہ بن کر دنیا کے سامنے ابھرے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کہ پاکستان فیلڈ مارشل انہوں نے جاتا ہے نہیں کر کی بات بات کر

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی