ایران میں موساد کیلیے جاسوسی کرنے والے ایک اور شخص کو سزائے موت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک اور شخص کو سزائے موت دے دی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجرم کی شناخت ماجد موسیبی کے نام سے ہوئی ہے، جسے اسرائیل کے لیے خفیہ معلومات فراہم کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔
ایرانی عدالتی حکام کا کہنا ہے کہ ماجد موسیبی پر موساد کے ساتھ تعاون، حساس معلومات کی ترسیل اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت ہوئے، جس کے بعد اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی خفیہ نیٹ ورک خطے میں عدم استحکام پھیلانے کے لیے سرگرم ہے، اور ان کے خلاف کارروائیاں ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔
واضح رہے کہ 13 جون کو ایران پر مبینہ اسرائیلی حملوں کے بعد سے ایرانی حکام نے موساد سے تعلق کے شبے میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا ہے، گزشتہ ہفتے بھی ایک شخص کو موساد کے لیے جاسوسی کے جرم میں سزائے موت دی گئی تھی۔
خیال رہےکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے مگر حالیہ برسوں میں یہ تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر جب سے ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر پیش رفت تیز کی ہے اور اسرائیل نے بارہا ایران پر خفیہ حملوں، سائبر حملوں اور سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے الزامات لگائے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے فلسطینی مزاحمتی گروپوں کی کھل کر حمایت شروع کی، جس کے بعد خطے میں ایران و اسرائیل کے درمیان براہ راست کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
ایران کے سرکاری ذرائع کے مطابق اسرائیلی حملوں اور اندرونی تخریب کاری کے واقعات کے نتیجے میں کئی فوجی اور سویلین افراد جاں بحق ہو چکے ہیں،حساس جوہری تنصیبات کو جزوی نقصان پہنچا۔
سیکیورٹی نظام کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔
21 جون 2025 کو امریکا کی جانب سے کیے گئے بڑے پیمانے پر فضائی حملے میں فردو، نطنز اور اصفہان میں موجود تین اہم جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، ان تنصیبات میں موجود بعض ری ایکٹرز اور زیر زمین تنصیبی ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں۔
اگرچہ ایران کا کہنا ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ایران نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے شدید ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سزائے موت ایران نے کے لیے کے بعد
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل