بمبئی (اوصاف نیوز)بھارتی بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کا ایک سے زائد سنگین بیماریوں میں مبتلا ہونے کا انکشاف سامنے آگیا، جس کے باعث وہ شادی کا فیصلہ نہیں لے رہے۔

بالی ووڈ کے دبنگ ہیرو سلمان خان نے ’’دی گریٹ انڈین کپل شو‘‘ میں اپنی سنگین بیماریوں کا تذکرہ کرکے مداحوں کو حیران و پریشان کردیا۔ سلمان خان نے شو کے دوران انکشاف کیا کہ کئی خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شو کے میزبان کپل شرما نے سلمان خان نے ان کی شادی نہ کرنے سے متعلق سوال پوچھا تھا جس پر سلمان خان نے جواب دیا کہ ’’ہم روز ہڈیاں تڑوا رہے ہیں، پسلیاں ٹوٹ چکی ہیں، ٹریجمنل نیورالجیا کے ساتھ کام کررہے ہیں، دماغ میں انیورزم ہے، اس کے باوجود کام کررہے ہیں، اے وی مالفارمیشن بھی ہے، پھر بھی چل رہے ہیں‘‘۔

سلمان خان نے جن بیماریوں کے نام لیے یہ بہت خطرناک اور جان لیوا ہیں، مداح اپنے محبوب اداکار کے بارے میں یہ سب جان کر تشویش میں مبتلا ہوگئے۔

واضح رہے کہ ٹریجمنل نیورالجیا ایک دائمی اعصابی بیماری ہے، جسے ’’سوسائیڈ ڈیزیز‘‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں مریض کے چہرے میں شدید درد کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں جو اسے خودکشی کی طرف مائل کرسکتے ہیں۔
جبکہ برین انیورزم دماغ میں کسی خون کی نالی کے کمزور ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والا ابھار ہوتا ہے، جو کہ عام طور پر خاموشی سے بڑھتا ہے اور جب پھٹتا ہے تو دماغ میں خطرناک حد تک خون بہنے کا باعث بن سکتا ہے جسے ’’ہیمرجک اسٹروک‘‘ کہتے ہیں۔

سلمان خان کی بیان کردہ تیسری بیماری اے وی مالفارمیشن ایک نایاب بیماری ہے جس میں دماغ یا ریڑھ کی ہڈی میں شریانیں اور رگیں غیر معمولی انداز میں جڑ کر الجھ جاتی ہیں۔ اس بیماری کے باعث خون کے معمول کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے اور بیہوشی، جھنجھناہٹ کا احساس، سر درد یا دماغی خلل جیسی سنگین طبی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کولمبیا میں 57 فوجیوں کو شہریوں نے اغوا کر لیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: رہے ہیں

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق