مودی راج، 11سالہ دور جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر قائم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
نااہل مودی حکومت جھوٹ پر مبنی بیانیے، حقائق چھپانے اور میڈیا کے ذریعے سچ کو دفنانے میں مہارت رکھتی ہے۔
مودی کی قیادت میں سچ، احتساب اور شفافیت غائب ہوگئی جبکہ صرف فوٹو شوٹس اور جھوٹے اشتہارات باقی ہیں۔ احمدآباد طیارہ حادثہ میں 270 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، مگر مودی سرکار کی جانب سے صرف خاموشی اور بے حسی دکھائی دی۔
مودی راج میں نئے ایئرپورٹس کے افتتاحی فیتے تو کاٹے جا رہے ہیں، مگر DGCA میں 48 فیصد اور ایوی ایشن اداروں میں 37فیصد آسامیاں خالی ہیں۔ بھارتی سول ایوی ایشن کا نظام شدید عملے کی کمی کا شکار ہے۔
سال 2017 سے 2022 کے درمیان 244 ریلوے بڑے حادثات ہوئے لیکن مودی کی توجہ صرف بھارت کی نئے ٹرینوں کی افتتاحی تقریبات پر رہی۔
اشتہاروں میں ’’شائننگ انڈیا‘‘ لیکن حقیقی بھارت بھوک، غربت اور افلاس کا شکار ہے۔ بھارت ہنگر انڈکس میں 127 میں سے 105 پر آچکا ہے۔ مودی نے 2016 میں نوٹ بندی کو ’’ماسٹر اسٹروک‘‘ فیصلہ کہا لیکن آج بھی آڈٹ کا کہیں ذکر تک نہیں۔
مودی راج میں سوال پوچھنے والا ’’غدار‘‘، بھارت صحافتی آزادی میں 151 ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ مودی کا ’’گودی میڈیا‘‘ صرف جھوٹ دکھانے میں مصروف ہے۔
کورونا میں صرف انسان نہیں مرے، سچ بھی دفن ہوا، مودی کے اپنے گجرات میں اموات 33 گنا زیادہ رہی جبکہ سرکاری گنتی فراڈ نکلی۔ مودی سرکار نے پارلیمنٹ کو آج تک نہیں بتایا کہ لاک ڈاؤن میں کتنی چھوٹی صنعتیں بند ہوئیں، کتنے مزدور بے روزگار ہوئے، سچ آج بھی دفن ہے۔
پلوامہ حملے میں 40 بھارتی جوان ہلاک ہوئے مگر 6 سال بعد بھی نہ انصاف ملا، نہ سچ سامنے آیا۔ پلوامہ اور پہلگام حملوں پر صرف مودی نے اپنی سیاست چمکائی۔
کمبھ میلہ بھگدڑ کی اموات پر بھی مودی نے عوام کو گمراہ کیا۔ بھارتی حکومت نے 37 اموات بتائیں لیکن بی بی سی رپورٹ کے مطابق 82 افراد جان سے گئے۔
پہلگام حملے پر بھی مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے عوام کو گمراہ کیا، سیاحوں کی سیکیورٹی مکمل طور پر ناکام رہی۔
مودی سرکار کی سفارتی ناکامی واضح ہے، کینیڈا سے تعلقات کشیدہ ہیں کیونکہ نجر قتل پر خاموشی ہے۔ مودی کا دور بھارت کی ناکامی کا دور ثابت ہو رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔