پاکستان کی مودی کے زخموں پر نمک پاشی؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
یہ ضروری نہیں ہے کہ کوئی ملک یا کسی مملکت کا سربراہ یا کوئی ادارہ اگر کسی شخص کو امن کا نوبیل انعام دینے کی سفارش کرے تو اُسے یقیناً یہ انعام مل بھی جائے ۔ ہم نے چند ماہ قبل یہ منظر دیکھا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو بھی امن کا نوبیل انعام دلوانے کے لیے اُن کے پارٹی و عالمی بہی خواہوں اور عشاق نے زبردست لابنگ اور سفارشیں کیں ، مگر نوبیل انعام بانی صاحب کو نہ مل سکا ۔
بعد ازاں انھیں اوکسفرڈ یونیورسٹی کا چانسلر بنانے کی بھی کوششیں بروئے کار آئیں ، مگر یہ کوششیں بھی بے ثمر ہی ثابت ہُوئیں۔نوبیل امن انعام دینے والوں کے اپنے پیمانے اور آدرش ہیں ۔ یہ خبر مگر پوری دُنیا میں حیرت اور دلچسپی سے سُنی گئی ہے کہ پاکستان نے امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ، کو نوبیل امن انعام دینے کی سفارش کر دی ہے ۔ اِس سفارش کے پس منظر میں دلیل یہ دی گئی ہے کہ ٹرمپ صاحب نے حالیہ ایام میں پاکستان اور بھارت کے درمیان فیصلہ کن سفارتی مداخلت کی اور قائدانہ کردار ادا کیا۔ یہ سفارش دراصل اِسی مبینہ کردار کے اعتراف میں کی گئی ہے ۔
پاکستانی قیادت تو ہر فورم پر یہ تسلیم کرتی ہے کہ حالیہ پاک بھارت چار روزہ جنگ رکوانے میں امریکی صدر نے مرکزی کردار ادا کیا ۔ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، بھی ایک درجن سے زائد بار بیان دے چکے ہیں کہ ’’مَیں نے حالیہ پاک بھارت جنگ بندی کروائی ، اور اِس کے لیے ٹریڈ کو بطورِ لیور استعمال کیا۔‘‘
بھارت مگر امریکی صدر کے بیانات سے متفق نہیں ہے۔ ٹرمپ کے مکرر بیانات کے پیش منظر میں پہلے تو بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی، مہر بہ لب رہے ، مگر گزشتہ روز وہ بول ہی پڑے ۔ کہا: ’’ڈونلڈ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بند کروائی نہ ہم نے اُن سے اِس بارے کوئی رابطہ ہی کیا۔‘‘امریکا اور امریکی صدر کو مودی جی کے اِس انکار سے دِلی طور پر صدمہ پہنچا ہے ۔
ٹرمپ صاحب مگر پاکستان کے اعتراف پر نہائت خورسند ہیں۔ اِسی لیے انھوں نے جون 2025کے تیسرے ہفتے واشنگٹن میں ہمارے فیلڈ مارشل سے تقریباً دو گھنٹے پر محیط، غیر معمولی، ملاقات کی اور آن دی ریکارڈ کہا:I Love Pakistan۔ ہم قومی سطح پر اِسی پر خوش ہیں اور آپے میں نہیں سما رہے ۔
پاکستان کے سفارشی کردار پر پاکستانی قیادت اور امریکی قیادت میں، یقیناً، ایک نئے باب کا اضافہ ہو گیا ہے ۔ بھارتی مگر پریشان ہیں ۔ انھیں پاک، امریکا تعلقات میں نئی قربتیں بڑی کھٹک رہی ہیں۔
اِسی پس منظر میں19جون2025ء کو معروف برطانوی اخبار ’’دی گارڈین‘‘ نے Penelope MacRae کا ایک مفصل آرٹیکل اِس عنوان کے تحت Thawing of Relations between Pakistan and US raises eyebrows in India شایع کیا ہے۔ مودی اور بانی پی ٹی آئی کے لیے بھی پاکستان و امریکا کی یہ قربتیں یکساں طور پر بڑی پریشان کن ہیں۔
پاکستان اور موجودہ حکومتِ پاکستان کے خلاف واشنگٹن میں دونوں کی بھاری سرمایہ کاری اکارت چلی گئی ہے ۔ حکومتِ پاکستان کے لیے تومعجزہ ہی ہو گیا ہے ۔ بھارتی خفیہ ادارے اور مودی جی اِس ’’معجزے‘‘ پر سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ اِسی لیے کچھ سیانے کہہ رہے ہیں کہ جاری حساس حالات میں پاکستان نے ٹرمپ کے لیے نوبیل امن انعام کی سفارش کر کے دراصل نریندر مودی کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔
سفارتی دُنیا میں پاکستان کے بڑوں نے جو کامیابی کے جھنڈے گاڑے ہیں، یہ ہم سب کے لیے مسرت انگیز ہیں ۔ حیرانی کی بات مگر یہ بھی ہے کہ واقعی ڈونلڈ ٹرمپ نوبیل امن انعام کے مستحق ہیں؟ یہ درست ہے کہ مبینہ طور پر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوانے میں بنیادی کردار ادا کیا، مگر بحیثیتِ مجموعی ٹرمپ کا عالمی امن کے لیے کردار ابھی متعین نہیں ہُوا ہے ۔ ٹرمپ خود بھی کہہ رہے کہ مجھے پتہ ہے ’’یہ‘‘ مجھے نوبیل امن انعام نہیں دینے والے ، یہ صرف لبرلز کو انعام بخشتے ہیں ۔
باطنی طور پر ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی جانتے ہیں کہ انھیں دوسری بار امریکی صدر بنے 120دن سے زائد گزر چکے ہیں ، مگر وہ اپنے اعلانات اور وعدوں کے مطابق دُنیا میں کامل امن قائم نہیں کروا سکے ۔ نہ ہی وہ ابھی امن ساز کے رُوپ میں سامنے آ سکے ہیں ۔ وہ یوکرین اور رُوس میں تباہ کن جنگ بند نہیں کروا سکے۔
وہ غزہ میں اسرائیل کی خونریز اوروحشتناک کارروائیاں رکوانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔ غزہ میں صہیونی اسرائیل اب تک 55ہزار سے زائد معصوم فلسطینی شہید کر چکا ہے اور غزہ کو کھنڈر بنا چکا ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ خود اعتراف کر چکے ہیں کہ ’’ مَیں فی الحال اسرائیل کو غزہ میں جنگ بندی بارے نہیں کہہ سکتا کیونکہ اسرائیل ، غزہ میں جنگ جیت رہا ہے ۔‘‘
کیا ہی کہنے ایسی منطق اور ’’امن سازی‘‘ کے !ٹرمپ ہی کی مبینہ شہ پر اسرائیل نے حال ہی میں ایران پر ، بِلا جواز ، حملہ کیا اور مسلسل حملے کیے جارہا ہے ۔ ایران کی ایک متعلقہ وزارت نے اعلان کیا ہے :’’ پچھلے ایک ہفتے کے دوران اسرائیل بمباری کرکے430 سے زائد ایرانی شہید کر چکا ہے اور3500 زخمی۔‘‘ اسرائیل اور امریکا بیک زبان ایرانی سینئر قیادت کے خاتمے بارے اعلان کرتے ہُوئے ہچکچاتے ہیں نہ عالمی سفارتکاری کا دامن تھامتے ہیں ۔ کیا ایسے ماحول میں ٹرمپ صاحب امن کا نوبیل انعام لینے کے حقدار قرار دیے جا سکتے ہیں؟
پاکستان نے ٹرمپ کو امن کا نوبیل انعام دینے کی سفارش کرکے ممکن ہے بھارت کو کوئی شہ مات دی ہو ، مگر یہ سفارش آیا پاکستان کے لیے مفید بھی ثابت ہوگی ؟ امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر ، ممتاز دانشور اور کئی عالمی شہرت یافتہ کتابوں کے مصنف، حسین حقانی، اِس بابت یوں کہتے ہیں: ’’خود پسند صدر ٹرمپ کو اپنی تعریف بے حد پسند ہے۔
اِس لیے انھیں امن انعام کے لیے نامزد کرکے پاکستانی حکومت نے اُن کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے کا انتظام کیا ہے۔ لیکن تزویراتی مفادات کا یکساں ہونا بھی ضروری ہے۔ کیا بھارت، ایران اور چین پر پاکستان اپنا موقف بدل سکے گا؟۔‘‘حقانی صاحب نے مزید لکھا:’’ پاکستانی مقتدرہ اور حکومت ( امریکا اور امریکی صدر بارے) خوش فہمیوں کا محل تعمیر کررہی ہے ۔ ملاقات اور دوستی اچھی ہے ، لیکن اعتدال کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ۔‘‘
دیکھا اور تجزیہ کیا جائے تو کھلتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کرنے کا اقدام پاکستان کے کئی سیاسی، سماجی اور مذہبی حلقوں میں پسند نہیں کیا گیا ۔ مثال کے طور پر سابق امیر جماعتِ اسلامی، جناب سراج الحق، کا کہنا ہے: ’’پاکستان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کا نوبیل انعام کے لیے سفارش کرنا دو سال سے جاری غزہ کے مسلمانوں کی نسل کشی کو دوام بخشنا اور مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنا ہے ۔‘‘
سراج الحق صاحب نے مزید سخت باتیں بھی کہی ہیں ، مگر ہم بوجوہ اِن کا یہاں اعادہ نہیں کر سکتے ۔ ایک بات مگر واضح ہے کہ کسی کو بھی ٹرمپ کے نوبیل امن انعام لینے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے ، بشرطیکہ (1) وہ مخلص ہو کر ، پوری تندہی کے ساتھ اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں، مسئلہ کشمیر یوں حل کروا دیں کہ پاکستان ، بھارت اور کشمیر میں سب راضی ہو جائیں (2) وہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں نسل کشی بند کروا دیں اور غزہ و مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو اُن کے پورے حقوق حاصل ہو جائیں (3) وہ ایران ، اسرائیل کے بھڑکتے اور مہلک مناقشے کو مستقل طور پر ٹھنڈا کروا دیں۔
یہ مگر بے حد پیچیدہ مسائل ہیں اور شاید ٹرمپ کے دَورِ صدارت سے ماورا بھی ۔ مگر ٹرمپ کے لیے ناممکنات میں سے بھی نہیں ۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج پر اعتبار کیا جا سکتا ہے ؟ یاد رہے کہ یہ وہی ٹرمپ صاحب ہیں جنھوں نے اپنے اولین دَورِ صدارت میں پاکستان بارے بعض ایسے کلمات کہے تھے جن کی یاد سے اب بھی پاکستانیوں کے دل جَل اُٹھتے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امن کا نوبیل انعام نوبیل امن انعام میں پاکستان کی سفارش کر پاکستان کے ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر انعام کے ٹرمپ کو ٹرمپ کے گئی ہے ہیں کہ کے لیے کے ہیں مگر یہ کو امن
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔