Daily Sub News:
2026-07-24@03:40:26 GMT

سوشل میڈیا کا عروج اور معاشرتی زوال

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

سوشل میڈیا کا عروج اور معاشرتی زوال

سوشل میڈیا کا عروج اور معاشرتی زوال WhatsAppFacebookTwitter 0 23 June, 2025 سب نیوز

تحریر: حمزہ خان

ایک دور تھا جب محفلیں گلیوں میں جمتی تھیں، چائے خانوں میں بحث و مباحثہ ہوتا تھا، اور بزرگوں کی محافل میں نوجوان سیکھتے تھے۔ مگر آج کل ہر فرد کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی اسکرین ہے جس نے دنیا کو قریب تو کیا ہے، مگر دلوں کو دُور کر دیا ہے۔ یہ اسکرین سوشل میڈیا کی ہے، جس نے نہ صرف ہماری ترجیحات کو بدلا ہے بلکہ ہمارے رویّے، سوچنے کا انداز، اور بات چیت کا سلیقہ بھی بدل دیا ہے۔

پاکستان میں سوشل میڈیا کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے۔ ہر دوسرا نوجوان فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک یا ایکس (پہلے ٹوئٹر) پر نظر آتا ہے۔ جہاں ایک طرف یہ پلیٹ فارم اظہارِ رائے کی آزادی دیتے ہیں، وہیں دوسری طرف یہ عدم برداشت، جھوٹ، افواہوں اور سستی شہرت کا ذریعہ بھی بن چکے ہیں۔

آج کے نوجوان کا ہیرو وہ شخص ہے جو وائرل ہو جائے، چاہے کسی بھی انداز سے۔ کسی استاد یا محقق کا نام کوئی نہیں جانتا، مگر کسی “کانٹینٹ کریئیٹر” کے لاکھوں فالورز ہیں۔ یہ سوشل میڈیا کی جادوگری ہے کہ اصل اور نقل کا فرق مٹ گیا ہے۔

ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ معمولی باتوں پر قوم دو گروہوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ کوئی بات علمی انداز میں کرنے کے بجائے، ذاتی حملے کیے جاتے ہیں۔ ہر شخص خود کو “ایکسپرٹ” سمجھتا ہے، چاہے اسے متعلقہ موضوع کی الف ب بھی نہ آتی ہو۔ یہ رویّے صرف آن لائن نہیں، بلکہ حقیقی زندگی میں بھی جھلکنے لگے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے استعمال کو ایک حد میں رکھیں، اور اسے مثبت مقاصد کے لیے بروئے کار لائیں۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ اختلاف رائے کو برداشت کیسے کیا جاتا ہے، اور سچ کو جھوٹ سے الگ کیسے پہچانا جاتا ہے۔

ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ ہم آج انہیں کس راہ پر ڈال رہے ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے، تو شاید سوشل میڈیا کی روشنی میں ہم اپنا اصل اندھیروں میں کھو بیٹھیں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرقومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں ہاتھا پائی جھوٹے دیو قامتوں کا زوال بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان تعلیمی تعاون کی نئی راہیں ہرمز: جہاں ایران کی بندوق، تیل کی نالی پر رکھی جا سکتی ہے پی آئی اے کی پرواز، ماضی کی بلندیوں سے نجکاری کی دہلیز تک اسلام آباد میں کلائمیٹ چینج کے منفی اثرات زور پکڑنے لگے پارلیمینٹیرینز کافی کارنر: قومی اسمبلی میں روایت اور جدت کا امتزاج TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی