امریکا نے ایران کو جوہری تنصیبات پر حملے کی پیشگی اطلاع دی تھی، ایرانی میڈیا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کو اس کی جوہری تنصیبات پر حملے کی اطلاع پہلے ہی دی تھی جس کے باعث ایران جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیم کے ذخائر نامعلوم مقام پر منتقل کرنے میں کامیاب رہا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایک سینئر ایرانی سیاسی شخصیت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واشنگٹن نے ایران کو خفیہ طور پر پہلے ہی بتا دیا تھا کہ امریکا صرف 3 جوہری تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ ایرانی میڈیا نے ایرانی سیاسی شخصیت کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اطلاع دینے کا مقصد یہ کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ مکمل اور بھرپور جنگ نہیں چاہتا۔ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کی پیشگی اطلاع پر ایرانی حکام نے تیزی کے ساتھ تینوں جوہری تنصیبات سے افزودہ یورینیئم نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ ادھر برطانوی سیکرٹری برائے بزنس اینڈ ٹریڈ جوناتھن رینالڈز کا کہنا ہے کہ لندن کو حملے کی پیشگی اطلاع مل گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جوہری تنصیبات ایرانی میڈیا نے ایران
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔